کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 390 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 390

وقت کیا <mark>کر</mark>یں گے جو اس وقت محتاج ہے اس کی دستگیری <mark>کر</mark>و اور آئندہ ضروریات کو خدا پر چھوڑ دو۔حُسن اس کا نہیں گھلتا تمہیں یہ یاد رہے دوش مسلم پر اگر چادر احرام نہ ہو حج ایک نہایت ضروری فرض ہے نئی تعلیم کے دلدادہ اس کی طرف سے بہت غافل ہیں حالانکہ اسلام کی ترقی کے اسباب میں سے یہ ایک بڑا سبب ہے۔طاقت حج سے یہ مراد نہیں کہ <mark>کر</mark>وڑوں روپیہ پاس ہو۔ایک معمولی حیثیت کا آدمی بھی اگر اخلاص سے کام <mark>لے</mark> تو جج کے سامان مہیا <mark>کر</mark> سکتا ہے۔عادت ذ<mark>کر</mark> بھی ڈالو کہ یہ ممکن ہی نہیں دل میں ہو عشق صنم لب پہ مگر نام نہ ہو نماز کے علاوہ ایک جگہ بیٹھ <mark>کر</mark> تسبیح و تحمید و تکبیر <mark>کر</mark>نا یا کاموں سے فراغت کے وقت تسبیح وتحمید تکبیر <mark>کر</mark>نا دل کو روشن <mark>کر</mark> دیتا ہے۔اس میں آج کل لوگ بہت سستی <mark>کر</mark>تے ہیں نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ روحانی صفائی بھی حاصل نہیں ہوتی۔نمازوں کے پہ<mark>لے</mark> یا بعد اس کا خاص موقع ہے۔عقل کو دین پر حاکم نہ بناؤ ہرگز یہ تو خود آندھی ہے گر نیز الہام نہ ہو ہر ایک شخص کا فرض ہے کہ مذہب کو سچا سمجھ <mark>کر</mark> مانے یوں ہی اگر سچے دین کو بھی مان لیا جائے تو کچھ فائدہ نہیں لیکن جب پوری طرح یقین <mark>کر</mark> کے ایک بات کو مانا جائے تو پھر کسی کا حق نہیں کہ اس کی تفصیلات اگر اس کی عقل کے مطابق نہ ہوں تو ان پر محبت <mark>کر</mark>ے، روحانیات کا سلسلہ تو خدا تعا<mark>لے</mark> کی طرف سے قائم ہے بس عقل اور مذہب کا مقابلہ نہیں بلکہ عقل کو مذہب پر حاکم بنانے سے یہ مطلب ہو گا کہ آیا ہماری معقل زیادہ معتبر ہے یا خدا تعالیٰ کا علم۔نعوذ باللہ من ذالک۔ہاں یہ بات دریافت <mark>کر</mark>نی بھی ضروری ہے کہ جس چیز کو ہم مذہب کی طرف منسوب <mark>کر</mark>تے ہیں وہ مذہب کا حصہ ہے بھی یا نہیں۔383