کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 186 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 186

77 بخش دو رحم <mark>کر</mark>و شکوے گ<mark>لے</mark> جانے دو مر گیا، ہجر میں میں پاس مجھے آنے دو دوستو ! کچھ نہ کہو مجھ سے مجھے جانے دو خنجر ناز سے تم کسر مجھے کٹوانے دو (2) پڑگئی جس پر نظر ہو گیا کہ پوش ہی میرے دلدار کی آنکھیں ہیں کہ غم خانے دو دوستو ! رحم <mark>کر</mark>و کھول دو زنجیروں کو جا کے جنگل میں مجھے دل ذرا بہلانے دو (2) سر ہے پر ف<mark>کر</mark> نہیں، دل ہے پر اُمید نہیں اب میں بیس شہر کے باقی ہیں ویرا نے دو تمھیں تریاق مبارک ہو مجھے زہر کے گھونٹ غم ہی اچھا ہے مجھے تم مجھے غم کھانے دو دوستو سمجھو تو ہے زندگی اس موت کا نام یار کی راہ میں اب تم مجھے مر جانے دو دل کی دل جانے مجھے کام نہیں کچھ اس سے اپنی ڈالی ہوئی گنٹھی اُسے سلجھانے دو نفس پر بوجھ ہی ڈالو گے تو ہوگی اصلاح اونٹ <mark>کر</mark>تے ہیں یونہی چھینے چلا نے دو ف<mark>کر</mark> پر ف<mark>کر</mark> توغم پر ہے غموں کی بوچھ<mark>اڑ</mark> سانس تو لینے دو تھوڑا سا توئنتا نے دو اک طرف عقل کے شیطاں ہے تو اس جانب نقش ایک دانا کو میں گھیرے ہوئے دیوانے دو کبھی غیرت کے بھی دکھلانے کا موقع ہوگا یا یونہی کہتے چ<mark>لے</mark> جاؤ گے تم جانے دو (2) کٹ گئی عمر رگڑتے ہوئے ماتھا در پر کاش تم کہتے کبھی تو کہ اُسے آنے دو (2) مجھ سے ہے اور تو غیروں سے ہے کچھ اور شلوک دلبرا آپ بھی کیا رکھتے ہیں پیمانے دو تن سے کیا جان جدا رہتی ہے یا جان سے تن اخبار الفضل جلد 14-24 اگست راستہ چھوڑ دو دربانو! مجھے جانے دو * 1927 184