کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 135 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 135

52 ہو نونہالان جماعت مجھے کچھ کہنا ہے پر ہے یہ شرط کہ ضائع مرا پیغام نہ ہو <mark>چاہتا</mark> ہوں کہ <mark>کر</mark>وں چند نصائح تم کو تا کہ پھر بعدمیں مجھ پر کوئی الزام نہ ہو جب گزر جائیں گے ہم تم پر پڑے گا سب بار شہستیاں ترک <mark>کر</mark>د طالب آرام نہ ہو خدمت دین کو اک فضل الہی جانو اس کے بد<mark>لے</mark> میں کبھی طالب انعام نہ ہو دل میں ہو سوز تو آنکھوں سے واں ہوں آنسو تم میں اسلام کا ہومز، فقط نام نہ ہو سری کوت نہ ہو آنکھوں میں ن و برق ب دل میں کینہ نہ ہوا کبھی دشنام نہ : خیراندیشی حجاب رہے مد نظر عیب چینی نہ <mark>کر</mark>و مفید و تمام نہ ہو چھوڑ دو حرص <mark>کر</mark> و زهد و قناعت پیدا <mark>کر</mark> نہ محبوب بنے سیم دل آرام نہ ہو رغبت دل سے ہو پابند نماز و روزہ نظر انداز کوئی حصہ احکام نہ ہو پاس ہو مال تو دو اس سے زکوۃ وصدقہ ف<mark>کر</mark> مشکیں رہے تم کو غم ایام نہ ہو حُسن اس کا نہیں گھلتا تمہیں یہ یاد ہے دوش مسلم پر اگر چادر را حرام نہ ہو عادت ذ<mark>کر</mark> بھی ڈالو کہیہ ممکن ہی نہیں دل میں ہو عشق صنم اب پیگر نام نہ ہو صنم لب عقل کو دین پہ حاکم نہ بناؤ ہر گز یہ تو خود اندھی ہے گر نیز الہام نہ ہو جو صداقت بھی ہو تم شوق سے مانو اس کو علم کے نام سے پر تابع اوہام نہ ہو 134