کلام محمود مع فرہنگ — Page 132
51 تیری محبت میں میرے پیارے ہر اک مصیبت اٹھائیں گے ہم مگر نہ چھوڑیں گے تجھ کو ہرگز نہ تیرے در پر سے جائیں گے ہم تیری محبت کے جرم میں ہاں جو پیس بھی ڈا<mark>لے</mark> جائیں گے ہم تو اس کو جانیں گے مین راحت نہ دل میں کچھ خیال لائیں گے ہم سنیں گے ہرگز نہ غیر کی ہم نہ اس کے دھوکے میں آئیں گے ہم بس ایک تیرے حضور میں ہی سر اطاعت جھکائیں گے ہم جو کوئی ٹھو <mark>کر</mark> بھی مارے گا توائس کو نہ لیں گے ہم خوشی سے کہیں گے اپنی سزا یہی تھی زباں پرشکوہ نہ لائیں گے ہم ہمارے حالِ خراب پر گو ہنسی اُنھیں آج آ رہی ہے مگر کسی دن تمام دنیا کو ساتھ اپنے رلائیں گے ہم ہوا ہے سارا زمانہ دشمن ہیں اپنے بیگانے خوں کے پیاسے جو تو نے بھی ہم سے بے رخی کی توپھر تو بس مری جائیں گے ہم یتیں دلاتے رہے ہیں دُنیا کو تیری الفت کا مدتوں سے جو آج تو نے نہ کی رفاقت کسی کو کیا منہ دکھائیں گے ہم 131