اتمام الحجّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 74 of 82

اتمام الحجّة — Page 74

اتمام الحجة ۷۴ اردو ترجمہ ولا تحسب كلمات المحدثین اور تو خدا سے شرف مکالمہ و مخاطبہ پانے والے المكلمين ككلماتك أو محدثین کے کلمات کو اپنے اور اپنے جیسے گمراہ كلمات أمثالك من لوگوں کی باتوں کی طرح مت خیال کر۔ کیونکہ المتعسفين۔ فإنها خرجت من ان کی باتیں انفاس طیبہ اور الہام یافتہ پاک أنفاس طيبة، ونفوس مطهَّرة دلوں سے نکلتی ہیں اللہ کی طرف سے نو بہ نو ملنے ملهمة، وهي قريب العهد من والے یہ کلمات اُن تر و تازہ پھلوں کی طرح ہیں الله تعالى كثمر غض طری جو کھانے والوں کے لئے شجرہ مبارکہ سے ابھی أخذ الآن من شجرة مباركة ابھی حاصل کئے گئے ہوں ۔ اور لوگ جب ان للآكلين۔ والقوم لما لم کی لطیف، باریک اور پُر حکمت الہی باتوں کو سمجھ يفهموا كلمات لطيفة دقيقة نہیں پاتے تو وہ انہیں (اولیاء اللہ ) کو فاسقوں، حكمية إلهية، فعزوا أهلها إلى زندیقوں ، کافروں اور نفسانی خواہشات رکھنے الفساق والزنادقة والكفار وأهل والوں سے منسوب کر دیتے ہیں۔ پس حیف الأهواء۔ فياحسرة عليهم وعلى ہے اُن پر اور ان کی آراء پر ۔ اگر اس ( روتیہ ) تلك الآراء ، إنهم قد هلكوا سے باز آتے ہوئے انہوں نے تو بہ اور رجوع إن لم يتوبوا ولم يرجعوا منتهين۔ نہ کیا تو وہ ضرور ہلاک ہوں گے۔ شرفاء قالب والأحرار ينتقلون من القالب إلى (ظاہر ) سے قلب (باطن) کی طرف منتقل القلب، وهم انتقلوا من القلب ہوتے ہیں۔ لیکن یہ لوگ تو قلب سے قالب کی إلى القالب، ونبذوا كل ما طرف منتقل ہو چکے ہیں اور اُنہوں نے اپنے علموا وراء ظهورهم للبخل شدید بخل کی وجہ سے ا۔ ندید بخل کی وجہ سے اپنے علم کو پس پشت ڈال دیا الغالب، فأصبحوا كقشرٍ لا لُبَّ ہے پس وہ اُس چھلکے کی طرح ہو گئے جس میں مغز فيه وأكلوا الجيفة كالثعالب ، نہ ہو اور اُنہوں نے لومڑیوں کی طرح مردار کھایا