اتمام الحجّة — Page 58
اتمام الحجة ۵۸ اردو ترجمہ تحریف ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ اور معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دل میں بھی یہ یقین جما ہوا ہے کہ میری کتاب میں کچھ نہیں اس لئے انہوں نے اس پردہ پوشی کے لئے آخر کتاب کے کہہ بھی دیا ہے کہ میری کتاب سمجھ میں نہیں آئے گی ۔ جب تک کوئی سبقاً سبقاً مجھ سے نہ پڑھے۔ یہ کیوں کہا۔ صرف اس لئے کہ ان کو معلوم تھا کہ میری کتاب دلائل شافیہ سے محض خالی اور طبل تہی ہے۔ ۲۲ اور ضرور جاننے والے جان جائیں گے کہ اس میں کچھ نہیں ۔ لہذا تعلیق بالمحال کی طرح انہوں نے یہ کہہ دیا کہ وہ دلائل جو میں نے لکھے ہیں ایسے پوشیدہ ہیں کہ وہ ہر ایک کو نظر نہیں آئیں گے اور صرف میری زبان ان کی کنجی رہے گی اور جب تک کوئی میرے دروازہ پر ایک مدت ٹھہر کر اور میری شاگردی اختیار کر کے اس مجموعہ بکواس کو سبقاً سبقاً مجھ سے نہ پڑھے تب تک ممکن ہی نہیں کہ ان اوراق پراگندہ سے کچھ حاصل ہو سکے ۔ اے فضول گو مولوی اگر تیرے دلائل ایسے ہی گور میں پڑے ہوئے اور تاریکی میں اترے ہوئے ہیں کہ وہ تیری کتاب میں ایک زندہ ثبوت کی طرح اپنا وجود بتلا ہی نہیں سکتے تو ایسی بیہودہ اور فضول کتاب کے بنانے کی ضرورت ہی کیا تھی جب تجھے خود معلوم تھا کہ دلائل نہایت لکھے اور بے معنی ہیں یہاں تک کہ تیرے زبانی بکواس کے سوا بے نشان ہیں تو ایسی کتاب کا لکھنا ہی بے سود تھا۔ بلکہ ان کا دلائل نام رکھنا ہی بے محل اور جائے شرم اور یاوہ گوئی میں داخل ہے۔ اگر چہ اس پرفتن دنیا میں ہزاروں طرح کے فریب ہو رہے ہیں مگر ایسا فریب کسی نے کم سنا ہوگا کہ جو اس مولوی رسل بابا صاحب نے کیا کہ دلائل سمجھنے کے لئے شاگردی اور سبقاً سبقاً کتاب پڑھنے کی شرط لگا دی اور دل میں یقین کر لیا کہ یہ تو کسی دانا سے ہرگز نہیں ہوگا کہ ایک نادان نبی کی شاگردی اختیار کرے اور اس کے شیطانی رسالہ کو سبقاً سبقاً اس سے پڑھے اس امید سے کہ حضرت مسیح کی زندگی کے دلائل ایسے پوشیدہ طور پر اس کی کتاب میں چھپے ہوئے ہیں کہ تمام دنیا اپنی آنکھوں سے ان کو دیکھ نہیں سکتی اور نہ ان کے رسالہ میں ان کا کچھ پتا لگا سکتی ہے۔ اگر چہ ہزار یا کروڑ مرتبہ پڑھے اور نہ رسالہ میں ان کا کچھ پتہ لگ سکتا ہے کہ کہاں ہیں۔ صرف