اتمام الحجّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 10 of 82

اتمام الحجّة — Page 10

اتمام الحجة ۱۰ اردو ترجمہ و من تبعه فقد نجا من طرق اور جس نے اس کی اتباع کی تو وہ یقیناً گھاٹے کی الخسران۔ ففكروا الآن، إن راہوں سے نجات پا گیا۔ لہٰذا اب غور کرو کہ القرآن يتوفى المسيح ويكمل قرآن کریم مسیح کو مارتا ہے اور اس کے بارہ فيه البيان، وما خالفه حدیث میں اپنے بیان کو مکمل کرتا ہے اور کوئی حدیث بھی في هذا المعنى بل فسرہ وزاد اس معنی میں قرآن کی مخالف نہیں بلکہ وہ اس کی العرفان، وتقرأ فى البخاری تفسیر کرتی اور عرفان بڑھاتی ہے۔ تم بخاری ، والــعـيـنــي وفـضـل البارى أن عينى اور فضل الباری میں پڑھتے ہو کہ توفی التوفي هو الإماتة، كما کے معنی مارنے کے ہیں ۔ جیسا کہ (حضرت) صلى الله شهد ابن عباس بتوضيح ابن عباس اور ہمارے آقا ( محمد علی ) ۔ نے جو تمام البيان، وسيدنا الذى إمام انس و جن کے امام اور نبی ہیں۔ واضح بیان کے الإنس ونبي الجان، فأي أمر ساتھ اس کی شہادت دی ہے۔ تو پھر اے بھائیو بقى بعده يا معشر الإخوان اور مسلمانوں کے گروہو ! اس کے بعد اور کون سی وطوائف المسلمين؟ بات باقی رہ جاتی ہے؟ وقد أقر المسيح في القرآن أن قرآن میں مسیح کا یہ اقرار موجود ہے کہ اُن کی فساد أمته ما كان إلا بعد موته موت کے بعد ہی ان کی اُمت میں بگاڑ ظاہر ہوا۔ فإن كان عيسى لم يمت إلى الآن، پھر اگر عیسیٰ (علیہ السلام) اب تک فوت نہیں فلزمك أن تقول إن النصارى ما ہوئے تو تمہیں لا ز ما یہ ماننا پڑے گا کہ نصاری نے أفسدوا مذهبهم إلى هذا الزمان اب تک اپنے مذہب کو نہیں بگاڑا اور جن لوگوں والذين نحتوا معنى آخر للتوفّى نے توفی کے کوئی اور معنی گھڑ لئے ہیں تو ایسے فهو بعيد عن التشفى، وإن هو معنی نا قابلِ اطمینان ہیں اور یہ صرف اور صرف إلا من أهوائهم، وفساد آرائهم، ان کی خواہشات اور ان کے خیالات کا فتور ہے۔