مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 79
مجموعه اشتہارات ۷۹ جلد سوم گورداسپور میں پٹواری ہیں جنہوں نے باوجود اپنی کم سرمائیگی کے ایک سو روپیہ اس کام کے لئے چندہ دیا ہے اور میں خیال کرتا ہوں کہ یہ سو روپیہ کئی سال کا ان کا اندوختہ ہوگا۔ اور زیادہ وہ قابل تعریف اس سے بھی ہیں کہ ابھی وہ ایک اور کام میں سو روپیہ سو روپیہ چندہ دے چکے ہیں ۔ ں۔ اور اب اپنے عیال کی بھی چنداں پروا نہ رکھ کر یہ چندہ پیش کر دیا ۔ جَزَاهُمُ اللَّهُ خَيْرَ الْجَزَاءِ ۔ دوسرے مخلص جنہوں نے اس وقت بڑی مردانگی دکھلائی ہے میاں شادیخاں لکڑی فروش ساکن سیالکوٹ ہیں ۔ ابھی وہ ایک کام میں ڈیڑھ سو روپیہ چندہ دے چکے ہیں ۔ اور اب اس کام کے لئے دوسو روپیہ چندہ؟ روپیہ چندہ بھیج دیا ہے ۔ اور یہ وہ متوکل شخص ہے کہ اگر اس کے گھر کا تمام اسباب دیکھا جائے تو شاید تمام جائداد پچاس روپیہ سے زیادہ نہ ہو۔ انہوں نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ چونکہ ایام قحط ہیں اور دنیوی تجارت میں صاف تباہی نظر آتی ہے تو بہتر ہے کہ ہم دینی تجارت کر لیں۔ اس لئے جو کچھ اپنے پاس تھا۔ سب بھیج دیا۔ اور درحقیقت وہ کام کیا جو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کیا تھا۔ شاید ہمارے بعض مخلصوں کو معلوم نہیں ہوگا کہ یہ منارة المسیح کیا چیز ہے اور اس کی کیا ضرورت ہے ۔ سو واضح ہو کہ ہمارے سید و مولی خیر الاصفیا خاتم الانبیاء سید نا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشگوئی ہے کہ مسیح موعود جو خدا کی طرف سے اسلام کے ضعف اور عیسائیت کے غلبہ کے وقت میں نازل ہوگا اس کا نزول ایک سفید منارہ کے قریب ہو گا جو دمشق سے شرقی طرف واقع ہے۔ اس پیشگوئی کے پورا کرنے کے لئے دو مرتبہ اسلام میں کوشش کی گئی ہے ۔ اول ۷۴۱ ھ سے پہلے دمشق کی مشرقی طرف سنگِ مرمر کا پتھر سے ایک منارہ بنایا گیا تھا جو دمشق سے شرقی طرف جامع اموی کی ایک جزو تھی اور کہتے ہیں کہ کئی لاکھ روپیہ اس پر خرچ آیا تھا اور بنانے والوں کی غرض یہ تھی کہ تا وہ پیشگوئی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری ہو جائے ۔ لیکن بعد اس کے نصاری نے اس منارہ کو جلا دیا۔ پھر اس حادثہ کے بعد ۷۴۱ھ میں دوبارہ کوشش کی گئی کہ وہ منارہ دمشق کی شرقی طرف پھر طیار کیا جائے ۔ چنانچہ اس منارہ کے لئے بھی غالبا ایک لاکھ روپیہ تک چندہ جمع کیا گیا ۔ مگر خدا تعالیٰ کی قضا و قدر سے جامع اموی کو آگ لگ گئی اور وہ منارہ بھی جل گیا۔ غرض