مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 68
مجموعه اشتہارات ۶۸ جلد سوم ونسبوا كل من غزا الى الجبر و الطغيان والغواية۔ فاقتضت مصالح الله ان يضع الحرب والجهاد ويرحم العباد وقد مضت سنته هذه في شيع الاولين۔ فان بنى اسرائيل قد طعن فيهم لجهادهم من قبل فبعث الله المسيح في آخر ز من موسى وارى ان الزارين كانوا خاطئين۔ ثم بعثني ربّى فى آخر ز من نبينا المصطفى وجعل مقدار هذا الزمن كمقدار زمن كان بين موسى وعيسى و ان فی ذالك لأية لقوم متفكرين۔ والمقصود من بعثى وبعث عيسى واحد وهو اصلاح الاخلاق ومنع الجهاد۔ واراءة الآيات لتقوية ايمان العباد۔ ولا شك ان وجوه الجهاد معدومة في هذا الزمن وهذه البلاد۔ فاليوم حرام على المسلمين ان يحاربوا للدين۔ وان يقتلوا من كفر بالشرع المتين۔ فان الله صرح حرمة الجهاد عند زمان الامن والعافية۔ وندّد الرسول الكريم بقیہ ترجمہ۔ نکتہ چینی کی نظر سے دیکھا اور ہر مجاہد کو جبر کشی اور گمراہی کی طرف منسوب کیا۔ پس اللہ تعالیٰ کی مصلحتوں نے اس بات کا تقاضا کیا کہ وہ لڑائی اور جہاد کو منسوخ کر دے اور اسی طرح اپنے بندوں پر رحم کرے اور اللہ تعالیٰ کی یہ سنت پہلے لوگوں میں بھی جاری رہی ہے ۔ چنانچہ اس سے قبل بنواسرائیل پر بھی ان کے جہاد کی وجہ سے طعن کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کے زمانہ کے آخر میں حضرت مسیح کو مبعوث کیا اور اس طرح اس نے یہ دکھا دیا کہ نکتہ چینی کرنے والے ہی خطا کار تھے ۔ اب میرے رب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے آخر میں مجھے مبعوث کیا اور اس زمانہ کی مقدار کو حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی علیہما السلام کے درمیانی زمانہ کی مقدار کے مشابہ بنا دیا اور اس میں سوچ بچار کرنے والوں کے لئے بڑا نشان ہے اور میری بعثت اور حضرت عیسی علیہ السلام کی بعثت کا مقصد ایک ہی ہے اور وہ مقصد اصلاح اخلاق اور جہاد کو ممنوع قرار دینا اور بنی نوع انسان کے ایمان کی تقویت کے لئے نشانات کا دکھانا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس زمانہ میں اور اس ملک میں جہاد کی وجوہ معدوم ہیں اور آج مسلمانوں پر دین کے لئے شریعت اسلامیہ کے منکرین سے لڑائی کرنا حرام ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے امن و عافیت کے زمانہ میں جہاد کی حرمت