مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 56
مجموعه اشتہارات ۵۶ جلد سوم - ہے جو لاہور سےلے گوشہ مغرب اور جنوب میں واقع ہے وہ دمشق سے ٹھیک ٹھیک شرقی جانب پڑی ہے ۔ پس اس سے ثابت ہوا کہ یہ منارة لمسیح بھی دمشق سے شرقی جانب واقع ہے۔ بقیہ حاشیہ ۔ پس اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی معراج میں زمانہ گذشتہ کی طرف صعود ہے اور زمانہ آئندہ کی طرف نزول ہے اور ماحصل اس معراج کا یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خیر الاولین والآخرین ہیں۔ معراج جو مسجد الحرام سے شروع ہوا اس میں یہ اشارہ ہے کہ صفی اللہ آدم کے تمام کمالات اور ابراہیم خلیل اللہ کے تمام کمالات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں موجود تھے اور پھر اس جگہ سے قدم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکانی سیر کے طور پر بیت المقدس کی طرف گیا اور اس میں یہ اشارہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں تمام اسرائیلی نبیوں کے کمالات بھی موجود ہیں۔ اور پھر اس جگہ سے قدم آنجناب علیہ السلام زمانی سیر کے طور پر اس مسجد اقصی تک گیا جو مسیح موعود کی مسجد ہے یعنی کشفی نظر اس آخری زمانہ تک جو مسیح موعود کا زمانہ کہلاتا ہے پہنچ گئی۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ جو کچھ مسیح موعود کو دیا گیا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں موجود ہے۔ اور پھر قدم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آسمانی سیر کے طور پر اوپر کی طرف گیا اور مرتبہ قَابَ قَوْسَین کا پایا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسا اللہ علیہ وسلم مظہر رصفات الہیہ اتم اور اکمل طور پر تھے۔ غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اس قسم کا معراج یعنی مسجد الحرام سے مسجد اقصی تک جو زمانی مکانی دونوں رنگ کی سی تھی اور نیز خدا تعالیٰ کی طرف ایک سیر تھا جو مکان اور زمان دونوں سے پاک تھا۔ اس جدید طرز کی معراج سے غرض یہ تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خیر الاولین والآخرین ہیں اور نیز خدا تعالیٰ کی طرف سیران کا اس نقطہ ارتفاع پر ہے کہ اس سے بڑھ کر کسی انسان کو گنجائش نہیں ۔ مگر اس حاشیہ میں ہماری صرف یہ غرض ہے کہ جیسا کہ آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں کشفی طور پر لکھا گیا تھا کہ قرآن شریف میں قادیاں کا ذکر ہے۔ یہ کشف نہایت صحیح اور درست تھا کیونکہ زمانی رنگ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا معراج اور مسجد اقطے کی طرف سیر مسجد الحرام سے شروع ہو کر یہ کسی طرح صحیح نہیں ہو سکتا جب تک ایسی مسجد تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سیر تسلیم نہ کیا جائے جو باعتبار بُعدِ زمانہ کے مسجد اقصی ہو۔ اور ظاہر ہے کہ مسیح موعود کا وہ زمانہ ہے جو اسلامی سمندر کا بمقابلہ زمانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرا کنارہ ہے۔ ابتدا سیر کا جو مسجد الحرام سے بیان کیا گیا اور انتہا سیر کا جو اس بہت دُور 66 لے سہو کتابت معلوم ہوتا ہے لاہور جس سے ہونا چاہیے ۔ ( ناشر )