مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 52
مجموعه اشتہارات ۵۲ جلد سوم لئے نہیں بلکہ تمام دنیا کے لئے صلح کاری کا پیغام لایا ہے۔ اب کیوں انسانوں کے خون کئے جائیں۔ اگر کوئی سچ کا طالب ہے تو وہ خدا کے نشان دیکھے جو صد ہا ظہور میں آئے اور آرہے ہیں۔ اور اگر خدا کا طالب نہیں تو اُس کو چھوڑ دو اور اس کے قتل کی فکر میں مت ہو کیونکہ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اب وہ آخری دن نزدیک ہے جس سے تمام نبی جو دنیا میں آئے ڈراتے رہے۔ * غرض یہ گھنٹہ جو وقت شناسی کے لئے لگایا جائے گا مسیح کے وقت کیلئے یاد دہانی ہے اور خود اس منارہ کے اندر ہی ایک حقیقت مخفی ہے اور وہ یہ کہ احادیث نبویہ میں متواتر آچکا ہے کہ مسیح آنے والا صاحب المنارہ ہو گا یعنی اس کے زمانہ میں اسلامی سچائی بلندی کے انتہا تک پہنچ جائے گی جو اس منارہ کی مانند ہے ہو۔ جو نہایت اونچا ہو ۔ اور دین اسلام سب دینوں پر غالب آجائے گا اُسی کے مانند جیسا کہ کوئی شخص جب ایک بلند منار پر اذان دیتا ہے تو وہ آواز تمام آوازوں پر غالب آجاتی ہے۔ سو مقد رتھا کہ ایسا ہی مسیح کے دنوں میں ہوگا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُله - یہ آیت مسیح موعود کے حق میں ہے اور اسلامی حجت کی وہ بلند آواز جس کے نیچے تمام آوازیں دب جائیں وہ ازل سے مسیح کے لئے خاص کی گئی ہے اور قدیم سے مسیح موعود کا قدم اس بلند مینار پر قرار دیا گیا ہے جس سے بڑھ کر اور کوئی عمارت اونچی نہیں ۔ اسی کی طرف براہین احمدیہ کے اس الہام میں اشارہ ہے جو کتاب مذکور کے صفحہ ۵۲۲ میں درج ہے۔ اور وہ یہ ہے :- بخرام که وقت تو نزد یک رسید و پائے محمد یاں بر منار بلند تر محکم افتاد ۔ ایسا ہی مسیح موعود کی مسجد بھی مسجد اقصی ہے کیونکہ وہ صدر اسلام سے دور تر اور انتہائی زمانہ پر ہے۔ اور ایک روایت میں خدا کے پاک نبی نے یہ پیشگوئی کی تھی کہ مسیح موعود کا نزول مسجد اقصی کے شرقی منارہ کے قریب ہوگا۔ ہے الصف : ١٠ ے حاشیہ۔ بعض احادیث میں یہ پایا جاتا ہے کہ دمشق کے مشرقی طرف کوئی منارہ ہے جس کے قریب مسیح کا نزول ہوگا ۔ سو یہ حدیث ہمارے مطلب سے کچھ منافی نہیں ہے کیونکہ ہم کئی دفعہ بیان کر چکے ہیں کہ ہمارا یہ گاؤں جس کا نام قادیاں ہے اور ہماری یہ مسجد جس کے قریب منارہ طیار ہو گا دمشق سے شرقی طرف ہی واقع