مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 45
مجموعه اشتہارات ۴۵ جلد سوم ایک نور قادیان میں گرا جس کے فیضان سے اُن کی اولاد بے نصیب رہ گئی ۔ حافظ صاحب زندہ ہیں اُن سے پوچھ لیں پوچھ لیں۔ پھر آپ کی شکایت کس قدر افسوس کے لایق ہے۔ اور اللہ جل شانہ خوب جانتا ہے کہ ہمیشہ مولوی عبداللہ غزنوی کی نسبت میرا نیک ظن رہا ہے اور اگر چہ بو بعض حرکات ان کی میں نے ایسی بھی دیکھیں کہ اس حُسن ظن میں فرق ڈالنے والی تھیں تاہم میں نے اُن کی طرف کچھ خیال نہ کیا اور ہمیشہ سمجھتا رہا کہ وہ ایک مسلمان اپنی فہم اور طاقت کے موافق پابند سنت تھا ۔ لیکن میں اس سے مجبور رہا کہ میں ان کو ایسے درجہ کا انسان خیال کرتا کہ جیسے خدا کے کامل بندے مامورین ہوتے ہیں۔ اور مجھے خدا نے اپنی جماعت کے نیک بندوں کی نسبت وہ وعدے دیئے ہیں کہ جو لوگ ان وعدوں کے موافق میری جماعت میں سے روحانی نشو و نما پائیں گے اور پاک دل ہو کر خدا سے پاک تعلق جوڑ لیں گے میں اپنے ایمان سے کہتا ہوں کہ میں ان کو صد ہا درجہ مولوی عبداللہ غزنوی سے بہتر سمجھوں گا اور سمجھتا ہوں کیونکہ خدا تعالیٰ ان کو وہ نشان دکھلاتا ہے کہ جو مولوی عبداللہ صاحب نے نہیں دیکھے اور اُن کو وہ معارف سمجھاتا ہے جن کی مولوی عبد اللہ کو کچھ بھی خبر نہیں تھی اور انہوں نے اپنی خوش قسمتی سے مسیح موعود کو پایا اور اُسے قبول کیا مگر مولوی عبد اللہ اس نعمت سے محروم گزر گئے ۔ آپ میری نسبت کیسا ہی بدگمان کریں اس کا فیصلہ تو خدا تعالیٰ کے پاس ہے۔ لیکن میں بار بار کہتا ہوں کہ میں وہی ہوں اور اس نور میں میرا پودہ لگایا گیا ہے جس نور کا وارث مہدی آخر زمان چاہیے تھا۔ میں وہی مہدی ہوں جس کی نسبت ابن سیرین سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ حضرت ابوبکر کے درجہ پر ہے۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ ابو بکر کیا وہ تو بعض انبیاء سے بہتر ہے۔ یہ خدا تعالیٰ کی عطا کی تقسیم ہے۔ اگر کوئی بخل سے مر بھی جائے تو اس کو کیا پرواہ ہے۔ اور جو شخص مولوی عبداللہ صاحب غزنوی کے ذکر سے مجھ سے ناراض ہوتا ہے اس کو ذرا خدا سے شرم کر کے اپنے نفس سے ہی سوال کرنا چاہیے کہ کیا یہ عبد اللہ اس مہدی ومسیح موعود کے درجہ پر ہو سکتا ہے۔ جس کو لے حاشیہ ۔ حافظ صاحب کے بھائی محمد یعقوب نے ایک مجلس میں یہ بھی کہا کہ عبداللہ صاحب نے نام بھی لیا تھا کہ وہ نور مرزاغلام احمد پر نازل ہوا۔ مگر میں ایسی روایتوں کا ذمہ وار نہیں ۔ جھوٹ سچ ان دونوں صاحبوں کی گردن پر ۔ منہ