مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 431 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 431

مجموعه اشتہارات نمبر اسم الجريدة وتاريخه ۴۳۱ الحاشية ترجمة خلاصة مضمونها جلد سوم ا شکاگو انٹر پریٹر إن الميرزا غلام أحمد رجلٌ من الـفـنـجـاب، وهو يدعو جون ۱۹۰۳ء ڈوئی" للمباهلة ۔ أيظن أنه يخرج في هذا الميدان؟ وإن الميرزا يكتب أن دوئى مفترى كذاب في دعوى النبوة، وإني أدعو الله أن يُهلكه ويستأصله كل الاستيصال۔ ويقول: إني على الحق، وإن دوئى على الباطل، فالله يحكم بيننا بأنه يُهلك الكاذب، ويستأصله في حين حياة الصادق۔ وإن الميرزا غلام أحمد يقول : إنى أنا المسيح الموعود وإن الحق في الإسلام۔ ٹیلیگراف ۵ جولائی ۱۹۰۳ء مطابق بما سبق بأدنى تغير الألفاظ ۔ اركونات سان فرانسسکو مطابق بما سبق بأدنى تغير الألفاظ، ومع ذالك قال إن هذا یکم دسمبر ۱۹۰۲ء الطريق طريق معقول ومبنى على الإنصاف۔ ولا شك أن الرجل الذي يُستجاب دعاؤه فهو على الحق من غير شبهة۔ ترجمہ حاشیہ نمبر اخبار کا نام اور تاریخ 1 شکا گوانٹر پر بیٹر جون ۱۹۰۳ء خلاصہ مضمون کا ترجمہ مرزاغلام احمد پنجاب کے رہنے والے ہیں اور وہ ڈوئی کو دعوت مباہلہ دیتے ہیں۔ کیا خیال کیا جا سکتا ہے کہ وہ (ڈوئی ) اس میدان میں نکلے گا۔ مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ ڈوئی دعوائے نبوت میں مفتری اور کذاب ہے۔ اور میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ اسے ہلاک کرے اور اس کی پوری طرح بیخ کنی کرے۔ اور وہ (مرزا صاحب) کہتے ہیں کہ میں حق پر ہوں اور ڈوئی باطل پر ہے۔ اس لئے اللہ ہمارے درمیان یوں فیصلہ کرے گا کہ وہ کا ذب کو ہلاک کرے گا اور صادق کی زندگی میں ہی اس کی بیخ کنی کرے گا۔ اور مرزا غلام احمد کہتے ہیں کہ میں ہی مسیح موعود ہوں اور حق صرف اسلام میں ہے۔ 2 ٹیلیگراف ۵ جولائی ۱۹۰۳ء الفاظ کے معمولی تغیر سے مضمون مذکورہ بالا کے مطابق ۔ 3 ارگوناٹ ۔ سان فرانسسکو الفاظ کی معمولی تبدیلی سے مضمون مذکورہ بالا کے مطابق ۔ مزید براں ایڈیٹر کہتا ہے کہ یکم دسمبر ۱۹۰۲ء یہ طریق فیصلہ معقول طریق اور مبنی بر انصاف ہے۔ اور یقیناً جس شخص کی دعا قبول ہو گی وہی بلا شبہ حق پر ہو گا۔