مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 429
مجموعه اشتہارات ۴۲۹ جلد سوم تتوب مما تفترى على الله بادعاء النبوة، فلا تحسب أنك تنجو بهذه الحيلة، بل الله يهلكك بعذاب شديد مع الذلة الشديدة، ويخزيك ويذيقك جزاء الفرية۔ وكان يراقب موتى وأراقب موته، وكنتُ أتوكل على الله ناصر الحق وحامي هذه الملة۔ ثم أشعت ما كتبت إليه في ممالك أمريكة إشاعةً تامة كاملةً، حتى أُشيع ما كتبت إليه في أكثر جرائد أمريكة، وأظنّ أنّ ألوفا من الجرائد أشاعتُ هذا التبليغ، وبلغت الإشاعة إلى عدّة ما أستطيع أن أحصيها، وليس فى القرطاس سعة أَنْ أُمليها ۔ وأما ما أُرْسِلَ إلى من جرائد أمريكة التي فيها ذكر دعوتى وذكر المباهلة وذكر دعائى على دوئى لطلب الفيصلة، فرأيتُ أن أكتب في الحاشية أسماء بعضها، ليعلم الناس أن هذا الأمر ما كان مكتومًا مخفيًّا، بل أشيع في مشارق الأرض ومغاربها، وفي أقطار الدنيا وأعطافها كلّها، شرقًا وغربًا وشمالا وجنوبًا۔ وكان سبب هذه بقیہ ترجمہ ۔ کے ساتھ یہ بھی کہ جس نبوت کا تو نے اللہ پر افترا کرتے ہوئے دعوی کیا ہے اس سے تو یہ نہیں کرے گا تو یہ مت سمجھنا کہ اس حیلہ سے تو بچ جائے گا بلکہ اللہ انتہائی ذلت کے ساتھ شدید عذاب سے تجھے ہلاک کرے گا اور تجھے رسوا کرے گا اور تجھے افترا کی سزا کا مزا چکھائے گا۔ اور وہ (ڈوئی) میری موت کا انتظار کرتا تھا۔ اور میں اس کی موت کا۔ میرا تو کل اللہ پر تھا جو حق کی مدد کرنے والا ہے اور اس ملت (اسلامیہ ) کا حامی ہے۔ اس کے بعد میں نے اس کی طرف لکھی ہوئی اپنی تحریر کو بلا دامریکہ میں بھر پور طریقہ سے شائع کر دیا، اور اس کی طرف لکھی گئی میری تحریرات امریکہ کے اکثر جرائد میں شائع ہوئیں۔ اور میرا یہ خیال ہے کہ میری اس تبلیغ کو ہزار ہا اخبارات نے شائع کیا اور یہ اشاعت اتنی تعداد میں ہوئی کہ میں اس کا شمار نہیں کر سکتا اور صفحات قرطاس میں اتنی گنجائش نہیں کہ میں اس کو رقم کر سکوں ۔ ہاں البتہ وہ امریکی جرائد جو مجھے بھیجے گئے اور جن میں میری تبلیغ اور میرے دعوت مباہلہ اور ڈوئی کے خلاف خدائی فیصلہ طلب کرنے کے لئے میری دعا کا ذکر تھا۔ تو میں نے مناسب سمجھا کہ ان میں سے بع سے بعض اخبارات کے نام حاشیہ میں لکا حاشیہ میں لکھ دوں تا کہ لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ یہ مباہلے کا معاملہ کوئی ڈھکا چھپا اور مخفی امر نہ تھا۔ بلکہ زمین کے مشرق ، مغرب اور دنیا کے تمام اکناف میں شرقا غربا اور شمالاً جنوباً اس کی اشاعت کی گئی۔ اور اس اشاعت کی وجہ یہ تھی کہ ڈوئی شہرت میں بڑے بادشا ہوں جیسا تھا ۔