مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 425 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 425

مجموعه اشتہارات ۴۲۵ جلد سوم جهلهم دعوى الرسالة۔ وكان هو عبد الدنيا لا كَحُرّ، وكصدف بلا در، ومع ذالك كان شيطان زمانه، وقرين شيطانه، ولكن الله مهله إلى وقت دعوته للمباهلة، ودعوت عليه في حضرة العزّة۔ وكنتُ أجد فيه ريح الشيطان، ورأيت أنه صريع الطاغوت وعدو عباد الرحمن، نجس الأرض ونجس أنفاس أهلها من أنواع خباثة الهذيان، وما رأيتُ كمثله عميتًا ولا عفريتا في هذا الزمان۔ كان مجنون التثليث، وعدو التوحيد، ومصرا على الدين الخبيث، وكان ينظر مضرّاتِه كحسنة، ومعرّاتِه كأسباب راحة۔ واجتمع الجهال عليه من الأمراء وأهل الثروة، ونصروه بمال لا يوجد إلا في خزائن الملوك وأرباب السلطنة۔ وكان يساق إليه قناطير الدولة، حتى قيل إنه ملك ويعيش كالملوك بالشأن والشوكة۔ ولما بلغت دولته منتهاها، تبع نفسه الأمارة وما زكاها ۔ وادعى الرسالة والنبوّة من إغواء الشيطان، وما تحامى عن الافتراء والكذب والبهتان۔ بقیہ ترجمہ ۔ ہو۔ اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے زمانے کا شیطان اور اپنے شیطان کا ساتھی تھا۔ مگر اللہ نے اسے اس وقت تک مہلت دی جب تک کہ میں نے اسے مباہلہ کیلئے بلایا اور اس کے خلاف رب العزت کی بارگاہ میں دعا کی۔ اور میں اس (ڈوئی) کے وجود میں شیطان کی بد بو پاتا تھا۔ اور میں نے اسے طاغوت کا پچھاڑا ہوا اور رحمان خدا کے بندوں کا دشمن پایا۔ اس نے زمین کو نا پاک کیا اور اہل زمین کی سانسوں کو اپنی طرح طرح کی خبیث نہ بکواس سے نجس کر دیا۔ میں نے اس زمانے میں اس جیسا کوئی شاطر اور سرکش شیطان نہیں دیکھا۔ وہ تثلیث کا دیوانہ اور توحید کا دشمن اور خبیث دین پر مصر تھا۔ اور وہ اس دین کی برائیوں کو نیکی کی طرح اور اس کے عیوب کو اسباب راحت کی مانند دیکھتا تھا۔ اور امراء اور دولت مندوں میں سے جاہل اسکے گرد جمع ہو گئے تھے۔ اور انہوں نے اسکی ایسے مال سے مدد کی جو صرف بادشاہوں اور ارباب سلطنت کے خزانوں میں پایا جاتا ہے۔ اور اس کے پاس ڈھیروں ڈھیر دولت لائی جاتی یہاں تک کہ یہ کہا جانے لگا کہ وہ بادشاہ ہے جو بادشاہوں کی طرح شان و شوکت سے زندگی بسر کرتا ہے اور جب اس کی دولت اپنی انتہا کو پہنچ گئی تو وہ ا۔ گئی تو وہ اپنے نفس امارہ کا مطیع ہو گیا اور اس نے اسے پاک نہ کیا۔ اور اس نے شیطان کے بہکانے سے نبوت اور رسالت کا دعوی کر دیا۔ اور افتراء ، جھوٹ اور بہتان سے اجتناب نہ کیا۔ اور اس نے یہ خیال کر لیا کہ یہ ایسی بات ہے جس کے بارہ میں اس سے باز پرس نہیں ہوگی ۔ اور وہ اپنی زندگی نا ز ونعم اور آسودگی