مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 27 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 27

مجموعه اشتہارات ۲۷ جلد سوم شخص جو ایک پُر ثمر باغ کے پاس پاس جا رہا تھا اس نے اس باغ کا اس لئے بے اجازت پھل نہیں تو ڑا کہ وہ ایک بڑا مقدس انسان تھا۔ کیا وجہ کہ ہم یہ نہ کہیں کہ اس لئے نہیں توڑا کہ دن کا وقت تھا۔ پچاس محافظ باغ میں موجود تھے اگر تو ڑتا تو پکڑا جاتا ، مارکھاتا ، بے عزت ہوتا ۔ اس قسم کی نبیوں کی تعریف کرنا اور بار بار معصومیت معصومیت پیش کرنا اور دکھلا نا کہ انہوں نے ارتکاب جرائم نہیں کیا سخت مکروہ اور ترک ادب ہے۔ ہاں ہزاروں صفات فاضلہ کی ضمن میں اگر یہ بھی بیان ہو تو کچھ مضایقہ نہیں مگر صرف اتنی ہی بات کہ اس نبی نے کبھی کسی بچے کا دو چار آنے کی طمع کے لئے گلا نہیں گھونٹا یا کسی اور کمینہ بدی کا مرتکب نہیں ہوا یہ بلا شبہ ہجو ہے ۔ یہ ان لوگوں کے خیال ہیں جنہوں نے انسان کی حقیقی نیکی اور حقیقی کمال میں کبھی غور نہیں کی جس شخص کا نام ہم انسان کامل رکھتے ہیں ۔ ہمیں نہیں چاہیے کہ محض ترک شر کے پہلو سے اس کی بزرگی کا وزن کریں کیونکہ اس وزن سے اگر کچھ ثابت ہو تو صرف یہ ہوگا کہ ایسا انسان بد معاشوں کے گروہ میں سے نہیں ہے۔ معمولی بھلے مانسوں میں سے ہے کیونکہ جیسا کہ ابھی میں نے بیان کیا ہے محض شرارت سے باز رہنا کوئی اعلیٰ خوبیوں کی بات نہیں ۔ ایسا تو کبھی سانپ بھی کرتا ہے کہ آگے سے خاموش گذر جاتا ہے اور حملہ نہیں کرتا اور کبھی بھڑیا بھی سامنے سے سرنگوں گذر جاتا ہے۔ ہزاروں بچے ایسی حالت میں مر جاتے ہیں کہ کوئی ضرر بھی کسی انسان کو انہوں نے نہیں پہنچایا تھا۔ بلکہ انسان کامل کی شناخت کے لئے کسب خیر کا پہلو دیکھنا چاہیے یعنی یہ کہ کیا کیا حقیقی نیکیاں اس سے ظہور میں آئیں اور کیا کیا حقیقی کمالات اس کے دل اور دماغ اور کانشنس میں موجود ہیں اور کیا کیا صفات فاضلہ اُس کے اندر موجود ہیں ۔ سو یہی وہ امر ہے جس کو پیش نظر رکھ کر حضرت مسیح کے ذاتی کمالات اور انواع خیرات اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات اور خیرات کو ہر ایک پہلو سے جانچنا چاہیے مثلاً سخاوت ، فتوت ، مواسات، حقیقی حلم جس کے لئے قدرت سخت گوئی شرط ہے ، حقیقی عفو جس کے لئے قدرت انتقام شرط ہے ۔ حقیقی شجاعت جس کے لئے خوفناک دشمنوں کا مقابلہ شرط ہے۔ حقیقی عدل جس کے لئے ظلم شرط ہے، حقیقی رحم جس کے لئے قدرت سزا شرط ہے اور اعلیٰ کی