مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 387 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 387

مجموعه اشتہارات ۳۸۷ جلد سوم ۔ رات کو بوقت ڈیڑھ بجے وہ زلزلہ آیا۔ جس سے بہت سے گھر مسمار ہوئے اور بہت سی جانیں ضائع ہوئیں۔ اور یہ پانچواں نشان تھا جو خدا نے میری تائید میں ظاہر کیا۔ پھر ایسا اتفاق ہو گیا کہ ایک شخص چراغ دین نام جموں کا رہنے والا جو ابتدا میں میرا مرید تھا مرتد ہو گیا اور پادریوں کے ساتھ ایک خطر ناک اختلاط اس کا ہو گیا اور اس نے پیغمبری کا دعوی بھی کیا۔ تب میں نے اس کی نسبت بددعا کی اور مجھے خدا تعالیٰ سے الہام ہوا کہ خدا اسے فنا کر دے گا اور اس کو غارت کر دے گا اور اس پر غضب نازل کرے گا اور اشارہ کیا گیا کہ وہ طاعون سے مرے گا۔ اسی لئے میں نے طاعون کے رسالہ میں ہی ( جو طاعون کے بارے میں لکھا تھا جس کا نام دافع البلاء و معیا راہل الاصطفا ہے یہ پیشگوئی درج کی چنانچہ وہ اپنی کتاب منارة امسیح کے ایک برس بعد ( جس میں مجھے اس نے دجال قرار دیا ہے ) اس قہر میں گرفتار ہوا کہ اول دولڑ کے اور ایک لڑکی اس کی طاعون سے مری اور پھر چار اپریل ۱۹۰۶ء کو خود طاعون میں مبتلا ہو کر اس جہان سے گزر گیا اور یہ چھٹا نشان تھا۔ جو خدا نے میری تائید میں ظاہر کیا اور اس کے ساتھ ہی ایک اور نشان ظہور میں آیا کہ اس نے اپنی طرف سے صریح لفظوں میں مباہلہ کیا اور اپنا ذکر کر کے اور میرا نام لے کر خدا سے یہ دعا کی کہ ہم دونوں میں سے جو مفتری اور حق کا دشمن ہے خدا اس کو فنا کر دے اور حق اور باطل میں فیصلہ کر دے اس کی اس دعا پر صرف دو تین روز اس پر گزرے تھے کہ وہ خدا کے مواخذہ کے نیچے آ گیا اور ایک دردناک عذاب کے ساتھ مرا کیونکہ اس سے زیادہ درد ناک کونسا حادثہ ہو گا ؟ کہ پہلے اس نے اپنے عزیز دو بیٹے اور ایک بیٹی اپنی آنکھ کے سامنے مرتی دیکھی اور اس پر مصیبت حادثہ کو مشاہدہ کر لیا کہ اب اس کی قطع نسل ہو گئی اور کوئی اس کی نسل میں سے باقی نہیں رہا اور پھر بعد اس کے ایسی طاعون سے بصد حسرت آپ موت کا پیالہ پیا اور ایمانی حالت کا یہ نمونہ دکھایا کہ دونوں لڑکوں کے مرنے کے بعد اس کے کلمات یہ تھے کہ اب خدا بھی میرا دشمن ہو گیا۔ ساتواں نشان تھا جو ظہور میں آیا۔ پھر بعد اس کے ایک اور نشان ظاہر ہوا کہ ایک شخص ڈوئی نام کا صیہون نام ایک شہر میں رہتا تھا اور پیغمبر ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور الہام کا بھی مدعی تھی۔ میں نے اس کو مباہلہ کے لئے بلایا۔ اس نے کچھ جواب نہ دیا اور بہت تکبر دکھلایا اور میں نے اس کی نسبت انگریزی