مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 23
مجموعه اشتہارات ۲۳ جلد سوم ۔ ہو مرد سے بے شک اس صور ، اس صورت میں ہم بستر ہو جائے جبکہ اسی وجہ سے اولاد ہونے سے نومیدی اور یہ کام نہ صرف جائز بلکہ بڑے ثواب کا موجب ہے اور اختیار ہے کہ دس یا گیارہ بچوں کے پیدا ہونے تک ایسی عورت بیگا نہ مرد سے بدکاری میں مشغول رہے۔ ایسا ہی ایک کے نزدیک جوں یا پیشو مارنا بھی حرام ہے اور دوسرا تمام جانوروں کو سبز ترکاریوں کی کاریوں کی طرح سمجھتا ہے اور ایک کے مذہب میں سور کا چھوٹا بھی انسان کو نا پاک کر دیتا ہے اور دوسرے کے مذہب میں تمام سفید اور سیاہ سور بہت عمدہ غذا ہیں۔ اب اس سے ظاہر ہے کہ گناہ کے مسئلہ میں دنیا کو کلی اتفاق نہیں ہے۔ عیسائیوں کے نزدیک حضرت مسیح خدائی کا دعویٰ کر کے پھر بھی اول درجہ کے معصوم ہیں مگر مسلمانوں کے نزدیک اس سے بڑھ کر کوئی بھی گناہ نہیں کہ انسان اپنے تئیں یا کسی اور کو خدا کے برابر ٹھہر اوے۔ غرض یہ طریق مختلف فرقوں کے لئے ہر گز حق شناسی کا معیار نہیں ہو سکتا جو بشپ صاحب نے اختیار کیا ہے۔ ہاں یہ طریق نہایت عمدہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام اور حضرت مقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا علمی اور عملی اور اخلاقی اور تقدسی اور برکاتی اور تاثیراتی اور ایمانی اور عرفانی اور افاضہ خیر اور طریق معاشرت وغیرہ وجوہ فضائل میں باہم مواز نہ اور مقابلہ کیا جائے یعنی یہ دکھلایا جائے کہ ان تمام امور میں کس کی فضیلت اور فوقیت ثابت ہے اور کس کی ثابت نہیں ۔ کیونکہ جب ہم کلام کلی کے طور پر تمام طرق فضیلت کو مد نظر رکھ کر ایک نبی کے وجوہ فضائل بیان کریں گے تو ہم پر یہ طریق بھی کھلا ہوگا کہ اُسی تقریب پر ہم اس نبی کی پاک باطنی اور تقدس اور طہارت اور معصومیت کے وجوہ بھی جس قدر ہمارے پاس ہوں بیان کر دیں ۔ اور چونکہ اس قسم کا بیان صرف ایک جز وی بیان نہیں ہے بلکہ بہت سی باتوں اور شاخوں پر مشتمل ہے۔ اس لئے پبلک کے لئے آسانی ہوگی کہ اس تمام مجموعہ کو زیر نظر رکھ کر اس حقیقت تک پہنچ جائیں کہ ان دونوں نبیوں میں سے در حقیقت افضل اور اعلیٰ شان کس نبی کو حاصل ہے اور گو ہر ایک شخص فضائل کو بھی اپنے مذاق پر ہی قرار دیتا ہے مگر چونکہ یہ انسانی فضائل کا ایک کافی مجموعہ ہوگا اس لئے اس طریق سے افضل اور اعلیٰ کے جانچنے میں وہ مشکلات نہیں پڑیں گی جو صرف معصومیت کی