مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 330
مجموعه اشتہارات ۳۳۰ جلد سوم دوست لیکن کثرت تعداد کے لحاظ سے پنجاب کو مقدم رکھا گیا ہے کیونکہ پنجاب میں ہر طبقہ کے آدمی خدمت دینی سے بہت حصہ لیتے جاتے ہیں اور دُور کے اکثر لوگ اگر چہ ہمارے سلسلہ میں داخل تو ہیں مگر بوجہ اس کے کہ اُن کو صحبت کم نصیب ہوتی ہے اُن کے دل بکلی دنیا کے گند سے صاف نہیں ہیں ۔ امر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یا تو آخر کار وہ گند سے صاف ہو جائیں گے اور یا خدا تعالیٰ ان کو اس پاک سلسلہ سے کاٹ دے گا اور ایک مردار کی طرح مریں گے۔ بڑی غلطی انسان کی دنیا پرستی ہے ۔ یہ بد بخت اور منحوس دُنیا کبھی خوف دلانے سے اور کبھی امید دینے سے اکثر لوگوں کو اپنے دام میں لے لیتی ہے اور یہ اسی میں مرتے ہیں۔ نادان کہتا ہے کہ کیا ہم دُنیا کو چھوڑ دیں۔ اور یہ غلطی انسان کو نہیں چھوڑتی جب تک کہ اس کو بے ایمان کر کے ہلاک نہ کرے۔اے نادان کون کہتا ہے کہ تو اسباب کی رعایت چھوڑ دے ۔ مگر دل کو دُنیا اور دُنیا کے فریبوں سے الگ کر ور نہ تو ہلاک شدہ ہے اور جس عیال کے لئے تو حد سے زیادہ بڑھتا جاتا ہے یہاں تک کہ خدا کے فرائض کو بھی چھوڑتا ہے اور طرح طرح کی مکاریوں سے ایک شیطان بن جاتا ہے ۔ اس عیال کے لئے تو بدی کا بیج ہوتا ہے اور ان کو تباہ کرتا ہے اس لئے کہ خدا تیری پناہ میں نہیں کیونکہ تو پارسا نہیں ۔ خدا تیرے دل کی جڑ کو دیکھ رہا ہے۔ سو تو بیوقت مرے گا اور عیال کو تباہی میں ڈالے گا لیکن وہ جو خدا کی طرف جھکا ہوا ہے اس کی خوش قسمتی سے اُس کے زن و فرزند کو بھی حصہ ملے گا اور اس کے مرنے کے بعد وہ کبھی تباہ نہیں ہوں گے ۔ جو لوگ مجھ سے سچا تعلق رکھتے ہیں وہ اگرچہ ہزا ر کوس پر بھی ہیں تاہم ہمیشہ مجھے لکھتے رہتے ہیں اور دعائیں کرتے رہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ انہیں موقعہ دے تا وہ برکات صحبت حاصل کریں ۔ مگر افسوس کہ بعض ایسے ہیں کہ میں دیکھتا ہوں کہ قطع نظر ملاقات کے سالہا سال گذر جاتے ہیں اور ایک کارڈ بھی ان کی طرف سے نہیں آتا۔ اس سے میں سمجھتا ہوں کہ اُن کے دل مر گئے ہیں اور ان کے باطن کے چہرہ پر کوئی داغ جذام ہے۔ میں تو بہت دُعا کرتا ہوں کہ میری سب جماعت ان لوگوں میں ہو جائے جو خدا تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اور نماز پر قائم رہتے ہیں اور رات کو اُٹھ کر زمین پر گرتے ہیں اور روتے ہیں اور خدا کے فرائض کو