مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 294
مجموعه اشتہارات ۲۹۴ جلد سوم تہ گورنمنٹ کے خیر خواہ رہیں ۔ اور دو رنگی سے بچیں۔ پھر بعد اس کے میرے دل میں جلسہ تاجپوشی کی تقریب پر ایک ارادہ دوبارہ جوش زن ہوا ہے جس کو میں آج سے قریباً بائیس برس پہلے اپنی کتاب براہین احمدیہ میں ملک میں مسلمانوں کی توجہ کے لئے شائع کیا تھا اور پھر وقتاً فوقتاً میں اس ارادہ کو اپنی متفرق کتابوں میں شائع کرتا رہا اور غالباً تین مرتبہ کے قریب میں نے اس ارادہ کو ملک میں شائع کیا مگر افسوس کہ اب تک وہ میرا مطلب پورا نہ ہوا۔ اب اس تقریب جلسہ تاجپوشی پر خوب موقعہ نکلا ہے کہ پھر میں یہ بات پیش کروں اور وہ یہ ہے کہ جس رعیت کو اپنی گورنمنٹ کے ساتھ دلی اطاعت کا جوش نہ ہو وہ بد قسمت رعیت ہے جو نفاق کے ساتھ گزارہ کرتی ہے اور اب ہم نے قریباً پچاس سال کی مدت میں متواتر تجارب سے دیکھ لیا ہے کہ گورنمنٹ در حقیقت مسلمانوں کے لئے ابر رحمت ہے۔ اس کے سایہ میں ہم امن سے گزارہ کرتے ہیں۔ اس کے سایہ میں اکثر مسلمان نسبتا اپنی پہلی حالت بے علمی سے بہت کچھ ترقی کر گئے ہیں اور یہ گورنمنٹ ان کی جانوں اور مالوں اور آبروں کی محافظ ہے اور ایسے عمدہ انتظام سے امن قایم کیا گیا ہے کہ اس سے بہتر متصور نہیں ۔ تو پھر کیا اس کے علماء کا فرض نہیں ہے کہ وہ پوری توجہ سے سوچیں کہ کیوں آئے دن اس محسن گورنمنٹ کو سرحدی وحشیوں کی لڑائیوں کے مشکلات پیش آتے ہیں کیا اس کا یہ سبب نہیں ہے کہ ان میں ایسے بدظن ملا موجود ہیں جو ہمیشہ ان کو یہی سبق دیتے رہتے ہیں کہ کافروں سے جہاد کرنا دین کا فرض اور بہشت کے حاصل کرنے کی ایک کنجی ہے۔ پس اس بات میں کچھ بھی شک نہیں کہ جن اسباب سے یہ فتنہ ہمیشہ اٹھتا رہتا ہے انہیں اسباب سے یہ فرو بھی ہو گا یعنی علماء کے مقابل پر علماء کی کوشش ضروری ہے ۔ پس کیا ہمارے علماء کوئی ایسی تدبیر نہیں کر سکتے کہ اس تدبیر کا اثر ان وحشیوں پر پڑے؟ بے شک کر سکتے ہیں اور اگر زیادہ اثر نہ ہو تو بلا شبہ کسی قدر ضرور اثر ہو گا ۔ یہ گورنمنٹ بے شک با ہیبت اور با اقبال ہے اگر چاہے تو ایک کروڑ مفسد اور باغی کی بخوبی سرکوبی کر سکتی ہے۔ لیکن آخر لڑائیوں میں عزیز جانیں ضائع ہوتی ہیں ۔ سو اگر کسی تدبیر سے کام نکلے تو کیوں جانیں ضائع