مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 271
مجموعه اشتہارات ۲۷۱ جلد سوم اس مسیح سے بڑھ کر ہے اور پھر یہ غلطیاں کہ گویا یسوع مسیح اب تک زندہ ہے اور گویا وہ آسمان پر ہے اور گویا وہ سچ مچ مردے زندہ کیا کرتا تھا اور اس کے مرنے پر یروشلم کے تمام مردے جو آدم کے وقت سے لیکر مسیح کے وقت تک مر چکے تھے زندہ ہو کر شہر میں آ گئے تھے۔ یہ سب جھوٹی کہانیاں ہیں۔ جیسا کہ ہندوؤں کے پورانوں میں ہیں اور سچ صرف اس قدر ہے کہ اس نے بھی بعض معجزات دکھلائے جیسا کہ نبی دکھلاتے تھے اور جیسا کہ اب خدا تعالیٰ اس عاجز کے ہاتھ پر دکھلا رہا ہے مگر مسیح کے کام تھوڑے تھے اور جھوٹ ان میں بہت ملایا گیا ۔ یہ کس قدر قابل شرم جھوٹ ہے کہ وہ زندہ ہو کر آسمان پر چڑھ گیا ۔ مگر اصل حقیقت صرف اس قدر ہے کہ وہ صلیب پر مرا نہیں ۔ واقعات صاف گواہی دیتے ہیں کہ مرنے کی کوئی بھی صورت نہیں تھی ۔ تین گھنٹہ کے اندر صلیب پر سے اتارا گیا۔ شدت درد سے بیہوش ہو گیا ۔ خدا کو منظور تھا کہ اس کو یہودیوں کے ہاتھ سے نجات دے۔ اس لئے اس وقت بباعث کسوف خسوف سخت اندھیرا ہو گیا یہودی ڈر کر اس کو چھوڑ گئے اور یوسف نام ایک پوشیدہ مرید کے وہ حوالہ کیا گیا اور دو تین روز ایک کوٹھہ میں جو قبر کے نام سے مشہور کیا گیا رکھ کر آخر آفاقہ ہونے پر ملک سے نکل گیا۔ اور نہایت مضبوط دلائل سے ثابت ہو گیا ہے کہ پھر وہ سیر کرتا ہوا کشمیر میں آیا۔ باقی حصہ عمر کا کشمیر میں بسر کیا۔ سری نگر محلہ خان یار میں اس کی قبر ہے ۔ افسوس خواہ نخواہ افترا کے طور پر آسمان پر چڑھایا گیا اور آخر قبر کشمیر میں ثابت ہوئی ۔ اس بات کے ایک دو گواہ نہیں بلکہ ہیں ہزار سے زیادہ گواہ ہیں ۔ اس قبر کے بارے میں ہم نے بڑی تحقیق سے ایک کتاب لکھی ہے جو عنقریب شائع کی جائے گی مجھے اس قوم کے مشنریوں پر بڑا ہی افسوس آتا ہے جنہوں نے فلسفہ طبعی ، ہیئت سب پڑھ کر ڈبو دیا اور خواہ مخواہ ایک عاجز انسان کو پیش کرتے ہیں کہ اس کو خدا مان لو۔ چنانچہ حال میں ملک امریکہ میں یسوع مسیح کا ایک رسول پیدا ہوا ہے جس کا نام ڈوئی ہے۔ اس کا دعوی ہے کہ یسوع مسیح نے بحیثیت خدا ئی دنیا میں اس کو بھیجا ہے تا سب کو اس بات کی طرف کھینچے کہ بجز مسیح کے اور کوئی خدا نہیں ۔ مگر یہ کیسا خدا ہے کہ یہودیوں کے ہاتھ سے اپنے تئیں بچا نہ سکا ۔ ایک دغا باز