مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 269 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 269

مجموعه اشتہارات ۲۶۹ جلد سوم ہی خدا سمجھ لے اور اسی کو اپنا معبود اور خالق اور خداوند اور منجی مان لے اور میں دیکھتا ہوں کہ ان کے ارادوں کے مقابل پر خدائے ذوالجلال نے بہت صبر کیا ہے۔ اس کی عزت ایک عاجز بندہ کو دی گئی ۔ اس کے جلال کو خاک میں ملایا گیا مگر اس نے اب تک صبر کیا کیونکہ جیسا کہ وہ غیور ہے ویسا ہی وہ صابر بھی ہے۔ ان ظالم مخلوق پرستوں نے تمام خدائی صفات یسوع ابن مریم کو دے دیئے ۔ اب ان کی نظر میں جو کچھ ہے یسوع ہے ۔ اس کے سوا کوئی خدا نہیں ۔ اب سچے خدا کی مثال یہ ہے کہ ایک امیر نے اپنے عزیزوں کے لئے ایک نہایت عمدہ گھر بنایا اور اس کے ایک حصہ میں ایک بستاں سرائے تیار کیا جس میں طرح طرح کے پھول اور پھل اور سایہ دار درخت تھے اور اس گھر کے ایک حصہ میں اپنے ان عزیزوں کو رکھا اور ایک حصہ میں اپنا مال و حشمت اور قیمتی اسباب مقفل کیا اور ایک حصہ بطور سرائے کے مسافروں کے لئے چھوڑا۔ لیکن جب مالک چند روز کے لئے سیر کو گیا تو ایک شوخ دیدہ اجنبی نے اس کے اس گھر پر جو بطور سرائے کے تھا دخل اور تصرف کر لیا اور تمام گھر بجز چند حجروں کے جس میں اس مالک کے عزیز تھے یا جن میں اس مالک کا قیمتی اسباب مقفل تھا خود بخود استعمال میں لانے لگا اور اس سرائے کو اپنا گھر بنالیا اور پھر اسی پر کفایت نہ کی بلکہ اس گھر سے اس مالک کے عزیزوں کو نکال دیا اور مقفل مکانوں کے قفل توڑ دیئے اور تمام اسباب پر اپنا قبضہ کر لیا۔ اب مالک جو صرف اس گھر کا مالک نہیں بلکہ اس ملک کا بادشاہ بھی ہے جب اس شہر میں آئے گا اور اس ظلم اور شوخی کو دیکھے گا تو کیا کرے گا۔ اس کا یہی جواب ہے کہ جو کچھ مقتضا اس کی سلطنت اور غیرت اور جبروت کا ہے سب کچھ عمل میں لائے گا۔ اور اس گھر کو اس ظالم سے خالی کرا کر پھر اپنے مظلوم عزیزوں کو اس میں داخل کرے گا اور وہ تمام مال جو غصب کیا گیا ان کو دے گا اور وہ مسافر خانہ بھی انہیں کو عطا کر دے گا تا آئندہ ان کی مرضی کے برخلاف کوئی اس میں زیادہ ٹھہر نہ سکے ۔ اسی طرح اب وہ زمانہ آ گیا ہے کہ تمام مذہبی جھگڑوں کا فیصلہ کر دیوے ۔ انسانوں میں بہت سی لڑائیاں ہوئیں ۔ بہت سے جنگ ہوئے لیکن ان کے جنگوں یا جہادوں سے یہ جھگڑا فیصلہ نہ ہو سکا آخران کی تلواریں ٹوٹ کر رہ گئیں ۔ اس سے