مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 255
مجموعه اشتہارات ۲۵۵ جلد سوم بالخصوص جبکہ قحط کے دن بھی شدت کرتے جاتے ہیں اور طاعون کے دن بھی ہیں اس لئے میں نے سخت گھبراہٹ کے وقت میں بلحاظ ہمدردی اس جماعت کی جس کو میں اپنے ساتھ رکھتا ہوں ، اس انتظام کو اپنا فرض سمجھا اور نیز اس خیال سے بھی کہ عمر کا اعتبار نہیں لہذا میں چاہتا ہوں کہ غرباء اور ضعفاء کی ایک جماعت میرے ساتھ رہے اور جو میری باتوں کو سنے اور سمجھے اگر چہ ہمارے سلسلہ کے ساتھ اور مصارف بھی لگے ہوئے ہیں لیکن میں سُنت انبیا علیہم السّلام کے مطابق سب سے زیادہ اس فکر میں رہتا ہوں کہ ایک گروہ حق کے طالبوں کا ہمیشہ میرے پاس رہے۔ اور نیز دور دور سے لوگ آویں اور اپنے اپنے شبہات پیش کریں اور میں ان شبہات کو دور کروں اور نیز ایسے لوگ آویں جو خدا تعالیٰ کی راہ مجھ سے سیکھنا چاہتے ہیں اور نیز یہ کہ جو کچھ میں لکھوں وہ کتا بیں چھپتی رہیں ۔ اگر چہ ہمارے ساتھ مدرسہ کا بھی تعلق ہے اور اس کا انتظام خرچ بھی ابھی ناقص اور بالکل نا قابل اطمینان ہی ہے اور میں یہ بھی خوب جانتا ہوں کہ جولڑ کے اس مدرسہ میں پڑھیں گے وہ نسبتا کچھ نہ کچھ سچائی اور دینداری اور پرہیز گاری اور نیک چلنی کی راہ سے لیکن ان میں اور ہم میں بڑے پہاڑ اور کانٹے اور شور دریا ہیں ۔ بہت تھوڑے ہیں جو اُن سب کو چیر کر ہم تک پہنچ سکتے ہیں ورنہ عموماً سب پڑھنے والے اپنی دنیا کے لئے مر رہے ہیں اور اس کتا کی مانند ہیں جو ایک دفن کئے ہوئے مر دار کی مٹی اپنے پیروں سے کھودتا ہے اور جب وہ مر دار ننگا ہو جاتا ہے تو اُسے کھاتا ہے۔ اسی طرح ان پڑھنے والوں میں بڑا گر وہ تو ایسا ہی ہے کہ اس مردار کی تلاش میں ہیں اور جب وہ مر دارا نہیں مل گیا تو پھر ہم کہاں اور وہ کہاں ۔ آخر انہیں باپوں کے وہ لے چونکہ شرعاً یہ امر ممنوع ہے کہ طاعون زدہ علاقہ کے لوگ اپنے دیہات کو چھوڑ کر دوسری جگہ جائیں اس لئے میں اپنی جماعت کے ان تمام لوگوں کو جو طاعون زدہ علاقوں میں ہیں منع کرتا ہوں کہ وہ اپنے علاقوں سے نکل کر قادیان یا کسی دوسری جگہ جانے کا ہرگز قصد نہ کریں اور جہاں تک ممکن ہو دوسروں کو بھی یا روکیں ۔ اپنے مقامات سے نہ ہلیں ۔ توبہ واستغفار کریں اور راتوں کو اُٹھ کر دعا ئیں کریں کہ یہی ضروری چیز اور حرز ہے ۔ منہ