مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 212
مجموعه اشتہارات ۲۱۲ جلد سوم براہین احمدیہ۔ اس میں صاف طور پر اس عاجز کو رسول کر کے پکارا گیا ہے۔ پھر اس کے بعد اسی کتاب میں میری نسبت یہ وحی اللہ ہے جَرِيٌّ اللهِ فِي حُلَلِ الْأَنْبِيَاءِ یعنی خدا کا رسول نبیوں کے حلوں میں ۔ دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۵۰۴ پھر اسی کتاب میں اس مکالمہ کے قریب ہی یہ وحی اللہ ہے مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمُ ۔ اس وحی الہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی ۔ پھر یہ وحی اللہ ہے جو صفحہ ۵۵۷ براہین میں درج ہے دنیا میں ایک نذیر آیا اس کی دوسری قراءت یہ ہے کہ دنیا میں ایک نبی آیا۔ اسی طرح براہین احمدیہ میں اور کئی جگہ رسول کے لفظ سے اس عاجز کو یاد کیا گیا ۔ سو اگر یہ کہا جائے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو خاتم النبیین ہیں پھر آپ کے بعد اور نبی کس طرح آ سکتا ہے۔ اس کا جواب یہی ہے کہ بے شک اُس طرح سے تو کوئی نبی نیا ہو یا پرانا نہیں آ سکتا جس طرح سے آپ لوگ حضرت عیسی علیہ السلام کو آخری زمانہ میں اُتارتے ہیں اور پھر اس حالت میں اُن کو نبی بھی مانتے ہیں بلکہ چالیس برس تک سلسلہ وحی نبوت کا جاری رہنا اور زمانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بڑھ جانا آپ لوگوں کا عقیدہ يت ولكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنَ اور بے شک ایسا عقیدہ تو معصیت ہے اور آ ہے۔ بے حديث لَا نَبِيَّ بَعْدِی اس عقیدہ کے کذب صریح ہونے پر کامل شہادت ہے۔ لیکن ہم اس قسم کے عقائد کے سخت مخالف ہیں اور ہم اس آیت پر سچا اور کامل ایمان رکھتے ہیں جو فرمایا کہ وَلَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنَ اور اس آیت میں ایک پیشگوئی ہے جس کی ہمارے مخالفوں کو خبر نہیں اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پیشگوئیوں کے دروازے قیامت تک بند کر دیئے گئے اور ممکن نہیں کہ اب کوئی ہندو یا یہودی یا عیسائی یا کوئی رسمی مسلمان نبی کے لفظ کو اپنی نسبت ثابت کر سکے۔ نبوت کی تمام کھڑکیاں بند کی گئیں مگر ایک کھڑ کی سیرت صدیقی کی کھلی ہے یعنی فنافی الرسول کی ۔ پس جو شخص اس کھڑ کی کی راہ سے خدا کے پاس آتا ہے اس پر ظلمی طور پر وہی نبوت کی چادر پہنائی جاتی ہے جو نبوت محمدی کی چادر ہے۔ اس لئے اس کا نبی ہونا غیرت کی جگہ نہیں کیونکہ وہ اپنی ذات سے نہیں بلکہ اپنے نبی کے چشمہ سے لیتا ہے اور نہ الاحزاب : ۴۱