مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 156 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 156

مجموعه اشتہارات ۱۵۶ جلد سوم مگر ان لوگوں کو اس قسم کے مقابلہ کا نام سننے سے بھی موت آتی ہے۔ مہر علی شاہ گولڑوی کو سچا ماننا اور یہ سمجھ لینا کہ وہ فتح پا کر لاہور سے چلا گیا ہے کیا یہ اس بات پر قوی دلیل نہیں ہے کہ ان لوگوں ا کے دل مسخ ہو گئے ہیں ۔ نہ خدا کا ڈر ہے نہ روز حساب کا کچھ خوف ہے۔ ان لوگوں کے دل جرات اور شوخی اور گستاخی سے بھر گئے ہیں گویا مرنا نہیں ہے ۔ اگر ایمان اور حیا سے کام لیتے تو بقیہ حاشیہ ۔ یعنی وہ لوگ جو بغیر تفتیش کے آیت کریمہ وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ ثُمَزَةِ کا مصداق بنے ہیں خدا ان کے ساتھ نہیں ہے اور ان کے لئے ویل یعنی جہنم کا وعدہ ہے۔ افسوس کہ منشی صاحب نے ان بے ہودہ نکتہ چینیوں کے پہلے اس آیت پر غور نہیں کی ۔ مگر اچھا ہوا کہ انہوں نے باقرار ان کے اس بد گوئی کا خدا تعالیٰ سے دست بدست جواب بھی پالیا یعنی بارہا ان کو وہ الہام ہوا جو کتاب عصائے موسی میں درج ہے۔ یعنی إِنِّي مُهِينٌ لِمَنْ أَرَادَ اِهَا نَتَكَ ۔ یعنی میں تجھے اس شخص کی حمایت میں ذلیل کروں گا جس کی نسبت تیرا خیال ہے جو وہ مجھے ذلیل کرنا چاہتا ہے یعنی یہ عاجز ۔ اب دیکھو کہ یہ کیسا چمکتا ہوا نشان ہے جس نے آیت وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ ثُمَزَةِ کی بلا توقف تصدیق کر دی ۔ دُنیا کے تمام مولویوں سے پوچھ لو کہ اس الہام کے یہی معنے ہیں ۔ اور لفظ مُهِينٌ قائم مقام مُهِينگ کا ہے۔ اور یہ ایک بڑا نشان ہے۔ اگر منشی الہی بخش صاحب خدا سے ڈریں ۔ اہانت کے لئے منشی صاحب کو دو ہی راہیں سوجھی ہیں ۔ (۱) ایک یہ کہ جس قدر کتابوں کا وعدہ کیا تھا۔ وہ سب شائع نہیں کیں ۔ یہ خیال نہ کیا کہ اگر کچھ دیر ہو گئی تو قرآن شریف بھی تو ۲۳ برس میں ختم ہوا ۔ آپ کو بد نیتی پر کیونکر علم ہو گیا ۔ انسان خدا کی قضاء وقدر کے نیچے ہے ۔ وَإِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ جبکہ یہ بھی بار با را شتہا ر دیا گیا کہ جس شتاب کا ر نے کچھ دیا ہے وہ واپس لے لے تو پھر اعتراض کی کیا گنجائش تھی ۔ بحر حبث نفس (۲) دوسرا یہ اعتراض ہے کہ پیشگوئیاں پوری نہیں ہوئیں ۔ اس کا جواب تو یہی ہے کہ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ ۔ سو سے زیادہ پیشگوئی پوری ہو چکی ۔ ہزاروں انسان گواہ ہیں۔ اور آتھم کی پیشگوئی شرطی تھی ۔ اپنی شرط کے موافق پوری ہوئی ۔ بھلا فرمائیے کیا وہ الہام شرطی نہیں تھا۔ سچ ہے انکار کرنا لعنتیوں کا کام ہے۔ اگر اجتہاد سے ہمارا یہ بھی خیال ہو کہ آتھم میعاد کے اندر مرے گا تو یہ اعتراض صرف اس صورت میں ہو سکتا ہے کہ پہلے الهمزة : ٢