مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 142
مجموعه اشتہارات ۱۴۲ جلد سوم تب خدا نے حضرت موسیٰ سے چودہ سو برس بعد اپنا مسیح بھیجا جو لڑائیوں کا سخت مخالف تھا ۔ وہ در حقیقت صلح کا شہزادہ تھا اور صلح کا پیغام لایا لیکن بد قسمت یہودیوں نے اس کا قدر نہ کیا۔ اس لئے خدا کے غضب سے عیسی مسیح کو اسرائیلی نبوت کے لئے آخری اینٹ کر دیا اور اس کو بے باپ پیدا کر کے سمجھا دیا کہ اب نبوت اسرائیل میں سے گئی ۔ تب خداوند نے یہودیوں کو نالائق پا کر ابراہیم کے دوسرے فرزند کی طرف رخ کیا ۔ یعنی اسمعیل کی اولاد میں سے پیغمبر آخرالزمان پیدا کیا ۔ یہی مثیل موسیٰ تھا جس کا نام محمدؐ ہے ۔ اس نام کا ترجمہ یہ ہے کہ نہایت تعریف کیا گیا ۔ خدا جانتا تھا کہ بہت سے نافہم مذمت کرنے والے پیدا ہوں گے اس لئے اس کا نام محمد رکھ دیا جبکہ آنحضرت شکم آمنہ عفیفہ میں تھے۔ تب فرشتہ نے آمنہ پر ظاہر ہو کر کہا تھا کہ تیرے پیٹ میں ایک لڑکا ہے جو عظیم الشان نبی ہو گا ۔ اس کا نام محمد رکھنا ۔ غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت موسیٰ کی طرح اپنی قوم کے راست بازوں کو درندوں اور خونیوں سے نجات دی ۔ اور موسیٰ کی طرح ان کو مکہ سے مدینہ کی طرف کھینچ لایا ۔ اور ابو جہل کو جو اس امت کا فرعون تھا بدر کے میدان جنگ میں ہلاک کیا اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے توریت باب ۱۸ آیت ۱۸ کے وعدہ کے موافق موسیٰ کی طرح ایک نئی شریعت ان لوگوں کو عطا کی جو کئی سو برس سے جاہل اور وحشی چلے آتے تھے اور جیسے بنی اسرائیل چار سو برس تک فرعون کی غلامی میں رہ کر وحشیوں کی طرح ہو گئے تھے ۔ یہ لوگ کے جنگلوں میں رہ کر ان سے کم نہ تھے بلکہ وحشیانہ حالت میں بہت بڑھ گئے تھے یہاں تک کہ حلال حرام میں بھی کچھ فرق نہیں کر سکتے تھے ۔ پس ان لوگوں کے لئے قرآن شریف بالکل ایک نئی شریعت تھی اور اُسی شریعت کے موافق تھی جو کوہ سینا پر بنی اسرائیل کو ملی تھی ۔ تیسری مماثلت حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت موسیٰ سے یہ مما تھی کہ جیسا کہ حضرت موسیٰ نے فرعون کو ہلاک کر کے اپنی قوم کو سلطنت عطا کی تھی اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مثیل فرعون یعنی ابو جہل کو جو والی مکہ سمجھا جاتا تھا اور