مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 133
مجموعه اشتہارات ۱۳۳ جلد سوم خلاف ورزی کرے گا تو وہ بھی مغلوب سمجھا جائے گا ۔ (۱۱) اس بات پر کوئی بات زیادہ نہیں کی جائے گی کہ فریقین بالمقابل بیٹھ کر عربی میں تفسیر لکھیں اور نہ یہ کہا جائے گا کہ اوّل کوئی بحث کر لو یا کوئی اور شرائط قائم کر لو ۔ فقط عربی میں تفسیر لکھنا ہوگا ۔ وبس ۔ (۱۲) جب دونوں فریق قرعہ اندازی سے معلوم کر لیں کہ فلاں سورۃ کی تفسیر لکھنی ہے تو ختیار ہوگا کہ قبل لکھنے کے گھنٹہ یا دو گھنٹہ سوچ لیں مگر کسی سے مشورہ نہیں لیا جائے گا اور نہ مشورہ کا موقعہ دیا جائے گا بلکہ گھنٹہ دو گھنٹہ کے بعد لکھنا شروع کر دیا جائے گا۔ یہ L ی نمونہ اشتہار ہے جس کی ساری عبارت بلاکم و بیش پیر صاحب کو اپنے اشتہاروں میں لکھنی چاہیے اور اس پر پنج کسی معززین لاہور کی گواہیاں ثبت ہونی چاہئیں ۔ اور چونکہ موسم برسات ہے اس لئے ایسی تاریخ اس مقابلہ کی مھنی چاہیے کہ کم سے کم تین دن پہلے مجھے اطلاع ہو۔ اطلاع ہو جائے ۔ (۲) دوسرا امر جو میرے لاہور پہنچنے کے لئے شرط ہے وہ یہ ہے کہ شہر لاہور کے تین رئیس یعنی نواب شیخ غلام محبوب سبحانی صاحب اور نواب فتح علی شاہ صاحب اور سید برکت علی خان صاحب سابق اکسٹرا اسسٹنٹ ایک تحریر بالاتفاق شائع کر دیں کہ ہم اس بات کے ذمہ دار ہیں کہ پیر مہر علی شاہ صاحب کے مریدوں اور ہم عقیدوں اور اُن کے ہم جنس مولویوں کی طرف سے کوئی گالی یا کوئی وحشیانہ حرکت ظہور میں نہیں آئے گی۔ اور یاد رہے کہ لاہور میں میرے ساتھ تعلق رکھنے والے پندرہ یا بیس آدمی سے زیادہ نہیں ہیں ۔ میں اُن کی نسبت یہ انتظام کر سکتا ہوں کہ مبلغ دو ہزار رو پیدان تینوں رئیسوں کے پاس جمع کرا دوں گا۔ اگر میرے ان لوگوں میں سے کسی نے گالی دی یا زد و کوب کیا تو وہ تمام روپیہ میرا ضبط کر دیا جائے ۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ جن کو لاہور کے بعض رئیسوں سے بہت تعلقات ہیں اور شاید پیری مریدی بھی ہے ان کو روپیہ جمع کرانے کی کچھ ضرورت نہیں کافی ہوگا کہ حضرات معزز رئیسان موصوفین بالا ان تمام سرحدی پُر جوش لوگوں کے لے پیر صاحب کو اس فیصلہ کے لئے پانچ دن کی مہلت دی جاتی ہے۔ اگر پانچ دن تک ان کا جواب نہ آیا تو ان کی گریز قطعی طور پر سمجھی جائے گی ۔