مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 121
مجموعه اشتہارات ۱۲۱ جلد سوم کے مرید ان کو قطب اور صاحب ولایت بھی سمجھتے ہیں مگر افسوس کہ انہوں نے منظور نہ کیا اور چونکہ کھلے کھلے انکار میں ان کی علمیت اور قطبیت پر داغ لگتا تھا اس لیے ایک چال بازی کی راہ اختیار کر کے یہ حجت پیش کر دی کہ آپ کے شرائط منظور ہیں ۔ مگر اول قرآن وحدیث کے رُو سے تمہارے عقائد کی نسبت بحث ہونی چاہیے ۔ پھر اگر مولوی محمد حسین بٹالوی اور ان کے ساتھ کے دو اور آدمیوں نے یہ رائے ظاہر کی کہ تم اس بحث میں حق پر نہیں ہو تو تمہیں میری بیعت کرنی پڑے گی ۔ پھر اس کے بعد تفسیر لکھنے کا بھی مقابلہ کر لینا ۔ اب ناظرین خودسوچ لیں کہ کیا انہوں نے اس طرز کے جواب میں میری دعوت کو قبول کیا یا رڈ کیا ۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ یہ کسی قسم کا ٹھٹھا اور ہنسی ہے کہ ایسے عقائد کے بحثوں میں جن میں ان کو خود معلوم ہے کہ مولوی محمد حسین بٹالوی سب سے اوّل مخالف شخص ہے اُس کی رائے پر فیصلہ چھوڑتے ہیں۔ حالانکہ خوب جانتے ہیں کہ اس کا مجھے سچا قرار دینا گویا اپنی قدیم مخالفت کو چھوڑنا ہے۔ ہاں اعجازی مقابلہ پر اگر اس کی قسم کا مدار رکھا جاتا تو یہ صورت اور تھی کیونکہ ایسے وقت میں جبکہ خدا تعالیٰ ایک معجزہ کے طور پر ایک فریق کی تائید کرتا تو محمد حسین کیا بلکہ صد ہا انسان بے اختیار بول اُٹھتے کہ خدا نے اپنے روح القدس سے اس شخص کی مدد کی کیونکہ اس قدر انکشاف حق کے وقت کسی کی مجال نہیں جو جھوٹی قسم کھا سکے ورنہ منقولی مباحثات میں تو عادتاً ایک کو دن طبع اپنے تئیں بیچ پر سمجھتا ہے۔ اور قسم بھی کھا لیتا ہے۔ ماسوا ! اس کے پیر صاحب کو یہ بھی معلوم ہے کہ میں رسالہ انجام آتھم میں شائع کر چکا ہوں کہ آیندہ میں ایسی منقولی بحثیں ان علماء سے نہیں کروں گا۔ اور پھر کیونکر ممکن ہے کہ میں اس عہد کو توڑ دوں ۔ اور پیر صاحب کی جماعت کی تہذیب کا یہ حال ہے کہ گندی گالیوں کے کھلے کارڈ میرے نام ڈاک کے ذریعہ سے بھیجتے ہیں ۔ ایسی گالیاں کہ کوئی ادنیٰ سے ادنیٰ چوہڑہ یا چمار بھی زبان پر نہیں لاسکتا ۔ پہلے میرا ارادہ تھا کہ پیر صاحب کا یہ گمان باطل بھی توڑنے کے لئے کہ گویا نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کی رو سے کچھ بحث کر سکتے ہیں ۔ اپنے دوستوں میں سے کسی کو بھیج دوں ۔ اور اگر جہی فی اللہ فاضل جلیل القدر مولوی سید محمد احسن صاحب امروہی پیر صاحب کے ساتھ بحث