مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 110 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 110

مجموعه اشتہارات ۱۱۰ جلد سوم لئے جائز نہ ہوگا کہ ایک دوسرے کو کسی قسم کی مدد دیں ۔ نہ تحریر سے نہ تقریر سے نہ اشارات سے بلکہ ضروری ہوگا کہ ہر ایک صاحب ایک مناسب فاصلہ پر ایک ایک دوسرے سے دور ہو کر بیٹھیں اور ایک دوسرے کی تحریر کو نہ دیکھیں ۔ اور جو شخص ایسی حرکت کرے وہ کمرہ مقابلہ سے فی الفور نکال دیا جائے گا۔ اور ضروری ہوگا کہ ہر ایک صاحب اپنے ہاتھ سے ہی لکھے۔ ہرگز جائز نہیں ہو گا کہ آپ بولتا جائے اور دوسرا لکھتا جائے کیونکہ اس صورت میں اقتباس سے استراق کا اندیشہ ہے۔ (۵) ضروری ہوگا کہ ہر ایک صاحب جب اپنے مضمون کو تمام کر لیں جو کم سے کم حسب ہدایت اشتہار ہذا میں ورق کا ہو گا جس میں کوئی عبارت اردو کی نہیں ہو گی بلکہ خالص عربی ہوگی تو اس کے نیچے اپنے پورے دستخط کریں اور اسی وقت ایک ایک نقل اس کی مع دستخط اور نیز مع ایک تصدیقی عبارت جو بدیں مضمون ہو کہ نقل ہذا مطابق اصل ہے۔ اس عاجز کے حوالہ کر دیں ۔ اور یہ میرا بھی فرض ہوگا کہ میں بھی بعد اخذ تمام نقول کے ایک نقل اپنی تحریر کی بعد ثبت دستخط پیر مہر علی صاحب کو دے دوں یہ میرے ذمہ نہیں ہو گا کہ ہر ایک صاحب کو ایک ایک نقل دوں کیونکہ اس تھوڑے وقت میں ایسا ہونا غیر ممکن ہے کہ میں مثلاً پچاس مولویوں کے لئے پچاس نقلیں اپنے ہاتھ سے لکھ کر دوں ۔ ہاں ہر ایک مولوی صاحب کو اختیار ہو گا کہ وہ اپنے لئے ایک ایک نقل میرے مضمون کی پیر مہر علی شاہ صاحب سے لے کر خود لکھ لیں ۔ مگر یہ اس وقت ہوگا کہ جب اپنے مضمون کی نقل مجھے دے چکیں ۔ (۶) ہر ایک شخص اپنا اپنا مضمون بعد لکھنے کے آپ سُنائے گا یا اختیار ہو گا کہ جس کو وہ پسند کرے وہ سُنا دے۔ (۷) اگر سُنانے کے لئے وقت کافی نہیں ہوگا تو تو جائز ہوگا کہ وہ مضمون دوسرے دن دن سُنا دیا لے یہ میرا بھی فرض ہو گا کہ میں بھی اپنے ہاتھ سے لکھ کر دوں ۔ اور جائز ہوگا کہ میں اپنا فرض پورا ادا کر کے دوسروں کی نگرانی کے لئے کسی دوسرے کو مقرر کر دوں اور یہی اختیار مخالفین کو ہوگا ۔ منہ