مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 101 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 101

مجموعه اشتہارات ۱۰۱ جلد سوم L کے خیالات بالکل پست اور محدود ہوتے ہیں اس لئے وہ اپنے تمام ذخیرہ لغویات میں ایک بھی ایسی بات پیش نہیں کر سکتے جس کے اندر کچھ روشنی ہو۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ صرف اس دھو کہ میں پڑے ہوئے ہیں کہ بعض حدیثوں میں لکھا ہے کہ مسیح موعود آسمان سے نازل ہوگا۔ حالانکہ کسی حدیث سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کبھی اور کسی زمانہ میں حضرت عیسی علیہ السلام جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چڑھ گئے تھے یا کسی آخری زمانہ میں جسم عنصری کے ساتھ نازل ہوں گے ۔ اگر لکھا ہے تو کیوں ایسی حدیث پیش نہیں کرتے ۔ ناحق نزول کے لفظ کے الٹے معنے کرتے ہیں۔ خدا کی کتابوں کا یہ قدیم محاورہ ہے کہ جو خدا کی طرف سے آتا ہے اس کی نسبت کہا جاتا ہے کہ وہ آسمان سے نازل ہوا۔ دیکھو انجیل یوحنا باب ۱ آیت ۳۸ اور اسی راز کی طرف اشارہ ہے سورۂ إِنَّا اَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ میں اور نیز آیت ذِكْرًا رَّسُولا میں۔ لیکن عوام جو جسمانی خیال کے ہوتے ہیں ۔ وہ ہر ایک بات کو جسمانی طور پر سمجھ لیتے ہیں ۔ یہ لوگ خیال نہیں کرتے کہ جیسے حضرت مسیح ان کے زعم میں فرشتوں کے ساتھ آسمان سے اُتریں گے۔ ایسا ہی ان کا یہ بھی تو عقیدہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی فرشتوں کے ساتھ آسمان پر گئے تھے بلکہ اس جگہ تو ایک براق بھی ساتھ تھا مگر کس نے آنحضرت کا چڑھنا اور اُتر نا دیکھا۔ اور نیز فرشتوں اور براق کو دیکھا؟ ظاہر ہے کہ منکر لوگ معراج کی رات میں نہ دیکھ سکے کہ فرشتے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو آسمان پر لے گئے ۔ اور نہ اُترتے دیکھ سکے ۔ اسی لئے انہوں نے شور مچا دیا کہ معراج جھوٹ ہے۔ اب یہ لوگ جو ایسے مسیح کے منتظر ہیں جو آسمان سے فرشتوں کے ساتھ اُتر تا نظر آئے گا یہ کس قدر خلاف سنت اللہ ہے۔ سید الرسل تو آسمان پر چڑھتا یا اُتر تا نظر نہ آیا تو کیا مسیح اُتر تا نظر آ جائے گا ۔ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِین - کیا ابو بکر صدیق نے سید المرسلین محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کو مع فرشتوں کے مرض معراج کی رات میں آسمان پر چڑھتے یا اُترتے دیکھا ؟ یا عمر فاروق نے اس مشاہدہ کا فخر حاصل القدر : ۲ الطلاق: ۱۲۱۱