مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 90 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 90

مجموعه اشتہارات ۹۰ جلد سوم خون ریزی سے ایک ثواب عظیم کو حاصل کرتا ہے اور اس کے سوا اور بھی کئی قسم کی ایذائیں محض دینی غیرت کے بہانہ پر نوع انسان کو پہنچائی جائیں گی چنانچہ وہ زمانہ یہی ہے کیونکہ ایمان اور انصاف کے رُو سے ہر ایک خدا ترس کو اس زمانہ میں اقرار کرنا پڑتا ہے کہ مثلاً آئے دن جو سرحدیوں کی ایک وحشی قوم ان انگریز حکام کو قتل کرتی ہے جو اُن کے یا ان کے ہم قوم بھائی مسلمانوں کی جانوں اور عزتوں کے محافظ ہیں۔ یہ کس قدر ظلم صریح اور حقوق عباد کا تلف کرنا ہے۔ کیا اُن کو سکھوں کا زمانہ یاد نہیں رہا جو بانگ نماز پر بھی قتل کرنے کو مستعد ہو جاتے تھے۔ گورنمنٹ انگریزی نے کیا گناہ کیا ہے جس کی یہ سزا اس کے معزز حکام کو دی جاتی ہے۔ اس گورنمنٹ نے پنجاب میں داخل ہوتے ہی مسلمانوں کو اپنے مذہب میں پوری آزادی دی ۔ اب وہ زمانہ نہیں ہے جو دھیمی آواز سے بھی بانگ نماز دے کر مار کھاویں بلکہ اب بلند میناروں پر چڑھ کر بانگیں دو اور اپنی مسجدوں میں جماعت کے ساتھ نمازیں پڑھو کوئی مانع نہیں ۔ سکھوں کے زمانہ میں مسلمانوں کی غلاموں کی طرح زندگی تھی اور اب انگریزی عملداری سے دوبارہ ان کی عزت قائم ہوئی ۔ جان اور مال اور عزت تینوں محفوظ ہوئے ۔ اسلامی کتب خانوں کے دروازے کھولے گئے تو کیا انگریزی گورنمنٹ نے نیکی کی یا بدی کی ؟ سکھوں کے زمانہ میں بزرگوار مسلمانوں کی قبریں بھی اُکھیڑی جاتی تھیں ۔ سر ہند کا واقعہ بھی اب تک کسی کو بھولا نہیں ہوگا۔ لیکن یہ گورنمنٹ ہماری قبروں کی بھی ایسی ہی محافظ ہے جیسا کہ ہمارے زندوں کی ۔ کیسی عافیت اور امن کی گورنمنٹ کے زیر سایہ ہم لوگ رہتے ہیں جس نے ایک ذرہ مذہبی تعصب ظاہر نہیں کیا ۔ کوئی مسلمان اپنے مذہب میں کوئی عبادت بجالا وے ۔ حج کرے زکوۃ دے ۔ نماز پڑھے یا خدا کی طرف سے ہو کر یہ ظاہر کرے کہ میں مجد دوقت ہوں یا ولی ہوں یا قطب ہوں یا مسیح ہوں یا مہدی ہوں اس سے اس عادل گورنمنٹ کو کچھ سروکار نہیں بجز اس صورت کے کہ وہ خود ہی طریق اطاعت کو چھوڑ کر باغیانہ خیالات میں گرفتار ہو۔ پھر باوجود اس کے کہ گورنمنٹ کے یہ سلوک اور احسان ہیں مسلمانوں کی طرف سے اس کا عوض یہ دیا جاتا ہے کہ ناحق بے گناہ بے قصور ان حکام کو قتل کرتے ہیں جو دن رات انصاف کی