مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 583
مجموعه اشتہارات ۵۸۳ جلد دوم دو ذلت تھی کہ یک دفعہ محمد حسین کو اپنی ہی تحریروں کی وجہ سے پیش آ گئی اور ابھی ایسی ذلت کا کہاں خاتمہ ہے بلکہ آئندہ بھی جیسے جیسے گورنمنٹ اور مسلمانوں پر کھلتا جائے گا کہ کیسے اس شخص نے دورنگی کا طریق اختیار کر رکھا ہے ویسے ویسے اس ذلت کا مزہ زیادہ سے زیادہ محسوس کرتا جائے گا اور اس ذلت کے ساتھ ایک دوسری ذلت اس کو یہ پیش آئی کہ میرے اشتہا ر ۲۱ رنومبر ۱۸۹۸ء کے صفحہ ۲ کی اخیر سطر میں جو یہ الہامی عبارت تھی کہ أَتَعْجَبُ لاَمْرِی اس پر مولوی محمد حسین صاحب نے یہ اعتراض کیا کہ یہ عبارت غلط ہے اس لئے یہ خدا کا الہام نہیں ہو سکتا اور اس میں غلطی یہ ہے کہ فقرہ أَتَعْجَبُ لِأَمْرِی لکھا ہے یہ مِنْ اَمْرِی چاہیے تھا کیونکہ عَجَب کا صلہ مِنْ آتا ہے نہ کام۔ اس اعتراض کا جواب میں نے اپنے اس اشتہار میں دیا ہے جس کے عنوان پر موٹی قلم سے یہ عبارت ہے حاشیہ متعلقہ صفحه اول اشتہار مورخه ۳۰ نومبر ۱۸۹۸ء اس جواب کا ماحصل یہ ہے کہ معترض کی یہ نادانی اور ناواقفیت اور جہالت ہے کہ وہ ایسا خیال کرتا ہے کہ گویا عجب کا صلہ لام نہیں آتا۔ اس اعتراض سے اگر کچھ ثابت ہوتا ہے تو بس یہی کہ معترض فن عربی سے بالکل بے بہرہ اور بے نصیب ہے اور صرف نام کا مولوی ہے کیونکہ ایک بچہ بھی جس کو کچھ تھوڑی سی مہارت عربی میں ہو سمجھ سکتا ہے کہ عربی میں عجب کا صلہ کام بھی بکثرت آتا ہے اور یہ ایک شائع متعارف امر ہے اور تمام اہل ادب اور اہل بلاغت کی کلام میں یہ صلہ پایا جاتا ہے۔ چنانچہ اس معروف و مشہور شعر میں لام ہی صلہ بیان کیا گیا ہے اور وہ شعر یہ ہے۔ عَجِبْتُ لِمَوْلُودٍ لَيْسَ لَهُ أَبٌ وَ مِنْ ذِي وَلَدٍ لَيْسَ لَهُ أَبَوَان یعنی اس بچہ سے مجھے تعجب ہے جس کا باپ نہیں یعنی حضرت عیسی علیہ السّلام سے اور اس سے زیادہ تعجب اس بچوں والوں سے ہے جس کے ماں باپ دونوں نہیں ۔ اس شعر میں دونوں صلوں کا بیان ہے کام کے ساتھ بھی اور مین کے ساتھ بھی اور ایسا ہی دیوان حماسہ میں جو بلاغت فصاحت میں ایک مسلم اور مقبول دیوان ہے اور سرکاری کالجوں میں داخل ہے۔ پانچ شعر میں