مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 574
مجموعه اشتہارات ۵۷۴ جلد دوم ہمارے دل پر ایک عجیب رقت اور در دطاری ہوتی ہے ۔ سو ہماری وہ تحریر جیسا کہ گندے خیال والے سمجھتے ہیں کسی نفسانی جوش پر مبنی نہ تھی بلکہ اس روشنی کے چشمہ سے نکلی تھی جو رحمت الہی نے ہمیں بخشا ہے۔ پر پھرای اشتہار کے صغیرہ میں یعنی سطر ۱ سے ۲۱ تک یہ عبارت ہے۔ کیا ممکن نہ تھا کہ جو ۱۹ کچھ میں نے رومی سلطنت کے اندرونی نظام کی نسبت بیان کیا وہ دراصل صحیح ہو اور ترکی گورنمنٹ کے شیرازہ میں ایسے دھاگے بھی ہوں جو وقت پر ٹوٹنے والے اور غداری سرشت ظاہر کرنے والے ہوں ۔ یاد رہے کہ ابھی میں اشتہار ۲۴ مئی ۱۸۹۷ء کے حوالہ سے بیان کر چکا ہوں کہ یہ غداری اور نفاق کی سرشت بذریعہ الہام الہی حسین بک کامی میں معلوم کرائی گئی ہے۔ غرض میرے ان اشتہارات میں جس قدر پیشگوئیاں ہیں جو میں نے اس جگہ درج کر دی ہیں اُن سب سے اول مقصود بالذات حسین کامی مذکور تھا۔ ہاں یہ بھی پیشگوئی سے مفہوم ہوتا تھا کہ اس مادہ کے اور بھی بہت سے لوگ ہیں جو سلطنت روم کے ارکان اور کارکن سمجھے جاتے ہیں۔ مگر بہر حال الہام کا اول نشانہ یہی شخص حسین کامی تھا جس کی نسبت ظاہر کیا گیا کہ وہ ہرگز امین اور دیانت دار نہیں اور اس کا انجام اچھا نہیں جیسا کہ ابھی میں نے اپنے اشتہار بقیہ حاشیہ ۔ اب جو شخص ملک و قوم کی اغراض کو ایک طرف پھینک کر غداری کے میدان میں نکلا ہے۔ کمال الدین پاشا فرزند عثمان پاشا ہے۔ یہ نوجوان سلطان المعظم کا داماد تھا مگر کچھ عرصہ سے اس کی ہوا ایسی بگڑی ہے اور کسی دشمن نے اُس پر ایسا جادو چلایا ہے کہ وہ علانیہ سرکشی پر کمر بستہ ہو گیا ہے۔ یہ حالت دیکھ کر دختر سلطان المعظم نے اس سے کنارہ کر لیا اور زوجیت کے تمام تعلقات قطع کر دیئے ۔ اب یہ نو جوان بروسا میں نظر بند کیا گیا ہے اور اس کے تمام تمغہ جات و جا گیر وغیرہ ضبط ہوگئی۔ کیسا دردناک سبق ہے کہ جس شخص کو سلطنت کی ترقی و اقبال میں ساعی ہونا چاہیے تھا وہ سازش کے جرم میں زندان میں ڈالا جائے۔ جب تک ترکوں میں اس قسم کے آدمی ہیں وہ اپنے آپ کو کبھی بھی خطرہ سے باہر نہیں نکال سکتے ۔ ( منقول از اخبار وکیل نمبر ۶۴ جلد ۱۰ مورخه ۲۷ را گست ۱۹۰۴ ء صفحه ۸ کالم نمبر۲)