مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 42
مجموعه اشتہارات ۴۲ جلد دوم کلمات لکھنے میں اول نمبر پر ہیں اور یہ بے تہذیبی اور بد زبانی دن بدن بڑھتی جاتی ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ اسلام ایک ایسا مذہب ہے کہ جو کسی قوم کے پیشوا کو گالی دینا اس کا اصول نہیں کیونکہ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ ہم ان پیمبروں پر ایمان لائے ہیں جن کا ذکر قرآن میں ہے اور یہ بھی ہمارا عقیدہ ہے کہ ہر یک قوم میں کوئی نہ کوئی مصلح گذرا ہے اور ہمیں یہ بھی تعلیم دی گئی ہے کہ ہم پورے علم کے بغیر کسی کی نسبت کوئی رائے ظاہر نہ کریں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا لیے سو یہ پاک عقائد ہمیں بیجا بد زبانیوں اور متعصبانہ نکتہ چینیوں سے محفوظ رکھتے ہیں مگر ہمارے مخالف چونکہ تقویٰ کی راہوں سے بالکل دور اور بے قید اور خلیج الرسن ہیں اور قرآن کریم جو سب سے پیچھے آیا ان کو طبعا بر امعلوم ہوتا ہے لہذا وہ جلد فحش گوئی اور بد زبانی اور توہین کی طرف مائل ہو جاتے ہیں اور سچی باتوں کے مقابل پر افتراؤں سے کام لیتے ہیں چنانچہ اس تمیں سال کے عرصہ میں ہمارے مخالفوں نے اس قدر نخش گالیاں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی کتابوں میں دی ہیں اور اس قدر افترا اسلامی تعلیم پر کئے ہیں کہ میں یہ دعوی سے کہتا ہوں کہ آپ لوگ تیرہ سو گذشتہ سالوں میں یعنی اسلام کے ابتدائی زمانہ سے آج تک اس کی نظیر نہیں پاؤ گے اور اسی پر بس نہیں بلکہ یہ نا جائز طریق ترقی پر ہے اس لئے ہر یک ایسے سچے مسلمان کا فرض ہے کہ جو درحقیقت اپنے تئیں مسلمان سمجھتا ہے کہ ایسے موقعہ پر بے غیرتوں اور بے ایمانوں کے رنگ میں بیٹھا نہ رہے بلکہ جیسا کہ اپنی حفظ عزت کے لئے کوشش کرتا ہے اور جب عزت برباد ہونے کا کوئی موقعہ پیش آوے تو جہاں تک طاقت وفا کرتی اور بس چل سکتا ہے اپنی آبرو کے بچاؤ کے لئے کوئی تدبیر باقی نہیں چھوڑتا۔ بلکہ ہزار ہا روپیہ پانی کی طرح بہا دیتا ہے ایسا ہی شریف اور سچے مسلمانوں کے لئے بھی زیبا ہے کہ اس پیارے رسول کی عزت کے لئے بھی جس کی شفاعت کی امید رکھتے ہیں کوشش کریں اور ایمانی نمونہ دکھلانے سے نامراد نہ جائیں۔ شاید بعض صاحبوں کی یہ رائے ہو کہ کیا ضرور ہے کہ اسلام کی طرف سے مذہبی تالیفات ہوں ا نوٹ ٹ ۔ یعنی جس بات کا تجھ کو یقینی علم نہیں دیا گیا اس بار با اس بات کا پیروکارمت بن اور یا درکھ کہ کان اور آنکھ اور دل جس قدر اعضا ہیں ان سب اعضا سے باز پرس ہوگی ۔منه (بنی اسراءیل: ۳۷)