مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 549
مجموعه اشتہارات لدما جلد دوم آسمان پر گئے بلکہ صلیب سے نجات پا کر اور پھر مرہم عیسیٰ سے صلیبی زخموں سے شفا حاصل کر کے نصیبین کی راہ سے افغانستان میں آئے اور افغانستان سے کوہ نعمان میں گئے اور وہاں اس مقام میں ایک مدت تک رہے جہاں شہزادہ نبی کا ایک چبوترہ کہلاتا ہے جو اب تک موجود ہے اور پھر وہاں سے پنجاب میں آئے اور مختلف مقامات کی سیر کرتے ہوئے آخر کشمیر میں گئے اور ایک سو پچیس برس کی عمر پا کر کشمیر میں ہی فوت ہوئے اور سرینگر خانیار کے محلہ کے قریب دفن کئے گئے اور میں اس تحقیقات کے متعلق ایک کتاب تالیف کر رہا ہوں جس کا نام ہے مسیح ہندوستان میں ۔ چنانچہ میں نے اس تحقیق کے لئے مخلصی محبی خلیفہ نوردین صاحب کو جن کا ذکر کر آیا ہوں کشمیر میں بھیجا تھا تو وہ موقعہ پر حضرت مسیح کی قبر کی پوری تحقیقات کر کے اور موقعہ پر قبر کا ایک نقشہ بنا کر اور پانسو چھپن آدمیوں کی اس پر تصدیق کرا کر کہ یہی حضرت عیسی علیہ السلام کی قبر ہے جس کو عام لوگ شہزادہ نبی کی قبر اور بعض یوز آسف نبی کی قبر اور بعض عیسی صاحب کی قبر کہتے ہیں ۔ ۷ ار ستمبر ۱۸۹۹ء کو واپس میرے پاس پہنچ گئے ۔ سو کشمیر کا مسئلہ تو خاطر خواہ انفصال پا گیا اور پانسو چھپن شہادت سے ثابت ہو گیا کہ در حقیقت یہ حضرت عیسی علیہ السلام کی قبر ہے کہ جو سری نگر محلہ خانیار کے قریب موجود ہے۔ لیکن اب ایک اور خیال باقی رہا ہے کہ اگر پورا ہو جائے تو نُورٌ عَلَى نُورٍ ہوگا اور وہ دو باتیں ہیں ۔ اول یہ کہ میں نے سُنا ہے کوہ نعمان میں جو شہزادہ نبی کا چپوترہ ہے اس کے نام ریاست کابل میں کچھ جا گیر مقرر ہے۔ لہذا اس غرض کے لیے بعض احباب کا کوہ نعمان میں جانا اور بعض احباب کا کابل میں جانا اور جاگیر کے کاغذات کی ریاست کے دفتر سے نقل لینا فائدہ سے خالی معلوم نہیں ہوتا ۔ دوسرے یہ کہ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ ال ا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام افغانستان افغانستان کی طرف نصیبین کی راہ سے آئے تھے اور کتاب رَوْضَةُ الصَّفَا سے پایا جاتا ہے کہ اس فتنہ صلیب کے وقت نصیبین کے بادشاہ لے خلیفہ نوردین صاحب کو خدا تعالیٰ اجر بخشے اس تمام سفر اور رہائش کشمیر میں اُنہوں نے اپنا خرچ اٹھایا اپنی جان کو تکلیف میں ڈالا اور اپنے مال سے سفر کیا ۔ منہ ایک ہمارے مخلص کا نام عبدالعزیز ہے جو اوجلہ ضلع گورداسپور میں رہتے ہیں اور اس ضلع کے پٹواری ہیں جن کا نام پہلے میں لکھ چکا ہوں اپنے جوش اخلاص سے نصیبین کے سفر کے لئے ایک آدمی کے جانے کا آدھا خرچ اپنے پاس سے