مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 521 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 521

مجموعه اشتہارات ۵۲۱ جلد دوم نسبت ایسی بیہودہ گوئی کی ہے کہ جی چاہتا ہے کہ یہ خبیث باطنی شیطان سامنے بٹھایا جائے اور دوسو جوتے مارے جائیں۔ اور جب شمار کرتے وقت عدد بھول جائے تو پھر از سر نو گننا شروع کیا جائے ۔ اس کتے کے بچے پر لعنت۔ سلطان کی نسبت حقارت آمیز لفظ استعمال کرنے سے تو یہی اچھا ہوتا ہے کہ وہ کھلا کھلا عیسائی ہو جاتا ۔ میں نے مرزا کے متعلق پانچ پیشگوئیاں کی ہیں ۔ اور وہ یہ ہیں ۔ (1) قادیانی ایک سخت مقدمہ میں پھنس جائے گا اور جلا وطن کیا جائے گا۔ یا بیڑیاں پڑیں گی اور قید خانہ میں ڈالا جائے گا۔ (۲) قید میں وہ دیوانہ ہو جائے گا۔ (۳) ایک ناسور نکلے گا۔ (۴) وہ جذامی ہو جائے گا اور خود کشی کر کے دوزخ میں ڈالا جائے گا۔“ ایسا ہی اُس اشتہار کے ساتھ ایک تصویر لکھی ہے جس میں مجھے شیطان بنایا ہے محمد حسین کا یہی طریق ہے کہ یہ گندے اشتہار پہلے اُس کے نام پر شائع کرتا ہے اور پھر نقل کے طور پر اپنی اشاعة السنه میں شائع کرتا ہے تا اگر کوئی اعتراض کرے کہ تو نے مولوی کہلا کر ایسی گندی اور قابل شرم کارروائی شروع کر رکھی ہے تو فی الفور اس کا جواب دیتا ہے کہ میں تو صرف اپنی اشاعۃ السنہ میں دوسرے کے کلام کو نقل کرتا ہوں ۔ اس میں کیا حرج ہے۔ لیکن اگر محمد بخش زٹلی وغیرہ کو عدالت خود بلا کر دریافت کرے تو میں یقین رکھتا ہوں کہ یہ سارا پردہ کھل جائے گا۔ غرض محمد حسین کی ایسی گندی کارروائیوں کے پہلے میں نے مجازی حکام کی طرح رجوع کیا یعنی میموریل بھیجے اور پھر اس حقیقی حاکم کی طرف توجہ کی جو دلوں کے خیالات کو جانتا اور مفسد اور نیک خیال آدمی میں فرق کرتا ہے یعنی مباہلہ کو جو اسلام میں قدیم سنت اور نماز روزہ کی طرح فرائض مذہب میں بوقت ضرورت داخل ہے، تجویز کر کے اشتہار ۲۱ نومبر ۱۸۹۸ء لکھا اور خدائے علیم جانتا ہے جس پر افتراء کرنا بد ذاتی ہے کہ بعد دعا یہی الہام ہوا کہ میں ظالم کو ذلیل کروں گا مگر اسی قسم کی ذلت ہو گی جو فریق مظلوم کو پہنچائی گئی ہو۔