مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 513 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 513

مجموعه اشتہارات الله جلد دوم ہے مگر اسی ذلت کی مانند اور مشابہ جو فریق ظالم نے فریق مظلوم کو پہنچائی ہو ۔ اب اگر اس الہامی فقرہ کو جو مہم کے ارادہ اور نیت کا ایک آئینہ ہے۔ ایک ذرہ تدبر اور فکر سے سوچا جائے تو بد یہی طور پر معلوم ہوگا کہ اس فقرہ کے اس سے بڑھ کر اور کوئی معنے نہیں کہ ظالم کو اسی قسم کی ذلت پہنچنے والی ہے جو فی الواقعہ مظلوم کو اس کے ہاتھ سے پہنچ چکی ہے۔ یہ معنے امر بحث طلب کو بالکل صاف کر دیتے ہیں اور ثابت کر دیتے ہیں کہ اس پیشگوئی کو کسی مجرمانہ ارادہ سے کچھ بھی لگاؤ نہیں ۔ اور یہ معنے صرف اسی وقت نہیں کئے گئے ، بلکہ اشتہا ر ۲۱ نومبر ۱۸۹۸ ء اور ۳۰ رنومبر ۱۸۹۸ء اور دوسرے اشتہارات میں جو پیش از اطلاع یابی مقدمہ شائع ہو چکے ہیں اُن سب میں کامل طور پر یہی معنے کئے گئے ہیں۔ عدالت کا فرض ہے کہ ان سب اشتہارات کو غور سے دیکھے کیونکہ میرے پر وہی الزام آ سکتا ہے جو میری کلام سے ثابت ہوتا ہے۔ پھر جبکہ میں نے الہامی عبارت کے معنوں کی قبل از وقوع یابی اپنے اشتہارات میں بخوبی تشریح کر دی ہے ۔ بلکہ ۳۰ رنومبر ۱۸۹۸ء کے اشتہار میں ذلت کی ایک مثال بھی لکھ دی ہے اور بار بار تشریح کر دی ہے تو پھر یہ الہام قانونی زد کے نیچے کیونکر آ سکتا ہے۔ ہر ایک مظلوم کا حق ہے کہ وہ ظالم کو یہ بد دعا دے کہ جیسا تو نے میرے ساتھ کیا خدا تیرے ساتھ بھی وہی کرے۔ اصول انصاف عدالت پر یہ فرض کرتا ہے کہ عدالت اس عربی الہام کے معنے غور سے دیکھے جس پر تمام مقدمہ کا مدار ہے۔ اگر میرے عربی الہام میں ایسا لفظ ہے جو ہر ایک قسم کی ذلت پر صادق آ سکتا ہے تو پھر بلا شبہ میں قانونی الزام کے نیچے ہوں لیکن اگر الہام میں مثلی ذلت کی شرط ہے تو پھر اس الہامی فقرہ کو قانون سے کچھ تعلق نہیں بلکہ اس صورت میں یہ بات تنقیح طلب ہوئی کہ فریق مظلوم کو کسی قسم کی ذلت ظالم سے پہنچی ہے اور فریق مخالف اس بات کو ہرگز قبول نہیں کرے گا کہ اس نے کبھی مجھ کو ایسی ذلت پہنچائی ہے جو فوجداری قوانین کے نیچے آ سکتی ہے مگر مثلی ذلّت کے لئے جو الہام نے قرار دی ہے۔ یہی شرط ہے کہ ظالم کی اسی قسم کی ذلت ہو جو بذریعہ اس کے مظلوم کو پہنچی ہو۔ اگر یہ پیشگوئی ایسے طور سے پوری ہوتی جو وہ طور مثلی ذلت کے برخلاف ہوتا تو ہر ایک کو کہنا پڑتا کہ یہ پیشگوئی جھوٹی نکلی۔ کیونکہ ضرور ہے کہ پیشگوئی اپنے اصل معنے کے رو سے پوری ہو چنانچہ یہ پیشگوئی