مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 481
مجموعه اشتہارات ۴۸۱ جلد دوم ۲ بیس ہزار روپیه تاوان کے ان لوگوں نے اس عقیدہ کو اختیار کرنے سے کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ آسمان پر چلے گئے اور وہاں قریباً اُنیس سو برس سے زندہ جسم عنصری موجود ہیں اور پھر کسی وقت زمین پر واپس آئیں گے۔ قرآن شریف کی چار جگہ مخالفت کی ہے۔ اوّل یہ کہ قرآن شریف صریح لفظوں سے حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات ظاہر فرماتا ہے جیسا کہ بیان ہوا۔ اور یہ کہ لوگ اُن کے زندہ ہونے کے قائل ہیں ۔ دوسرے یہ کہ قرآن شریف صاف اور صریح لفظوں میں فرماتا ہے کہ کوئی انسان بجز زمین کے کسی اور جگہ زندہ نہیں رہ سکتا جیسا کہ وہ فرماتا ہے فِيهَا تَحْيَوْنَ وَ فِيهَا تَمُوتُونَ وَ مِنْهَا تُخْرَجُونَ کے یعنی تم زمین میں ہی زندہ رہو گے اور زمین میں ہی مرو گے اور زمین سے ہی نکالے جاؤ گے۔ مگر یہ لوگ کہتے ہیں کہ نہیں اس زمین اور کرہ ہوا سے باہر بھی انسان زندہ رہ سکتا ہے ۔ 66 جیسا کہ اب تک جو قریباً انیسویں صدی گزرتی ہے حضرت عیسی علیہ السّلام آسمان پر زندہ ہیں ۔“ حالانکہ زمین پر جو قرآن کے رو سے انسانوں کے زندہ رہنے کی جگہ ہے ۔ باوجود زندگی کے قائم رکھنے کے سامانوں کے کوئی شخص اُنیس سو برس تک ابتدا سے آج تک کبھی زندہ نہیں رہا تو پھر آسمان لے یہ عنوان حضرت میر قاسم علی صاحب رضی اللہ عنہ کا قائم کردہ ہے۔ اصل کتاب میں کوئی عنوان نہ تھا۔ ( عبداللطیف بہاولپوری ) الاعراف : ٢٦