مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 476 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 476

مجموعه اشتہارات ۴۷۶ جلد دوم معلوم کیا ہے کہ خود محمد حسین کے ہی باغیانہ خیالات ہیں تو گورنمنٹ کا فرض ہے کہ کامل تحقیقات کر کے جو شخص ہم دونوں میں سے در حقیقت مجرم ہے اس کو قرار واقعی سزا دے تا ملک میں ایسی بدی پھیلنے نہ پاوے۔ حفظ امن کے لئے نہایت سہل طریق یہی ہے کہ پنجاب اور ہندوستان کے نامی مولویوں سے دریافت کیا جائے ۔ کہ یہ شخص جو اُن کا سرگروہ اور ایڈووکیٹ کہلاتا ہے اس کے کیا اعتقاد ہیں؟ اور کیا جو کچھ گورنمنٹ کو اپنے اعتقاد بتلاتا ہے۔ اپنے گروہ کے مولویوں پر بھی ظاہر کرتا ہے؟ کیونکہ ضرور ہے کہ جن مولویوں کا یہ گروہ اور ایڈووکیٹ ہے ان کے اعتماد بھی یہی ہوں جو سر گروہ کے ہیں ۔ بالآخر ایک اور ضروری امر گورنمنٹ کی توجہ کے لئے یہ ہے کہ محمد حسین نے اپنی اشاعة السنه جلد ۱۸ نمبر ۳ صفحہ ۹۵ میں میری نسبت اپنے گروہ کو اکسایا ہے کہ یہ شخص واجب القتل ہے۔ پس جبکہ ایک قوم کا سرگروہ میری نسبت واجب القتل ہونے کا فتوی دیتا ہے تو مجھے گورنمنٹ عالیہ کے انصاف سے امید ہے کہ جو کچھ ایسے شخص کی نسبت قانونی سلوک ہونا چاہیے وہ بلا توقف ظہور میں آوے۔ تا اس کے معتقد ثواب حاصل کرنے کے لئے اقدام قتل کے منصوبے نہ کریں ۔ فقط منصة۔ خاکسار مرزاغلام احمد قادیان تعداد ۷۰۰ ۲۷ دسمبر ۱۸۹۸ء مطبوعه ضیاء الاسلام قادیان ( یہ اشتہار ۲۴۰ کے صفحوں پر ہے ) A روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۲۲۲ تا ۲۲۶ تبلیغ رسالت جلدی صفحہ ۶۶ تا ۷۰ ) لے نوٹ ۔ محمد حسین نے اس قتل کے فتویٰ کے وقت یہ جھوٹا الزام میرے پر لگایا ہے کہ گویا میں نے حضرت عیسی علیہ السّلام کی توہین کی ہے اس لئے میں قتل کرنے کے لائق ہوں مگر یہ سراسر محمد حسین کا افترا ہے جس حالت میں مجھے دعوی ہے کہ میں مسیح موعود ہوں اور حضرت عیسی علیہ السّلام سے مجھے مشابہت ہے تو ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ میں اگر نعوذ باللہ حضرت عیسی علیہ السّلام کو بُرا کہتا تو اپنی مشابہت اُن سے کیوں بتلاتا کیونکہ اس سے تو خود میر ابر اہونا لازم آتا ہے۔ منہ