مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 474
مجموعه اشتہارات ۴۷۴ جلد دوم 66 رہی یہ بات کہ اس نے مجھے گورنمنٹ انگریزی کا باغی قرار دیا۔ سو خدا تعالیٰ کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ عنقریب گورنمنٹ پر بھی یہ بات کھل جائے گی کہ ہم دونوں میں سے کس کی باغیانہ کارروائیاں ہیں۔ ابھی سُلطانِ رُوم کے ذکر میں اس نے میرے پر حملہ کر کے اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ نمبر ۳ جلد ۱۸ میں ایک خطرناک اور باغیانہ مضمون لکھا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ” سلطان روم کو خلیفہ برحق کود۔ سمجھنا چاہیے اور اس کو دینی پیشوا مان لینا چاہیے اور اس مضمون میں میرے کافر ٹھہرانے کے لئے یہ ایک وجہ پیش کرتا ہے کہ یہ شخص سلطان روم کے خلیفہ ہونے کا قائل نہیں ہے۔“ سوا گر چہ یہ درست ہے کہ میں سلطان روم کو اسلامی شرائط کے طریق سے خلیفہ نہیں مانتا کیونکہ وہ قریش میں سے نہیں ہے اور ایسے خلیفوں کا قریش میں سے ہونا ضروری ہے۔ لیکن یہ میرا قول اسلامی تعلیم کے مخالف نہیں بلکہ حدیث الائمه من قریش سے سراسر مطابق ہے۔ مگر افسوس کہ محمد حسین نے باغیانہ طرز کا بیان کر کے پھر اسلام کی تعلیم کو بھی چھوڑا حالانکہ پہلے خود بھی یہی کہتا تھا کہ سلطان خلیفہ مسلمین نہیں ہے اور نہ ہمارا دینی پیشوا ہے اور اب میری عداوت سے سلطان روم اس کا خلیفہ اور دینی پیشوا بن گیا۔ اور اس جوش میں اُس نے انگریزی سلطنت کا بھی کچھ پاس نہ کیا اور جو کچھ دل میں پوشیدہ تھا وہ ظاہر کر دیا اور سلطان روم کی خلافت کے منکر کو کافر ٹھہرایا اور یہ تمام جوش اس کو اس لئے پیدا ہوا کہ میں نے انگریزی سلطنت کی تعریف کی اور یہ کہا کہ یہ گورنمنٹ نہ محض مسلمانوں کی دنیا کے لئے بلکہ ان کے دین کے لئے بھی حامی ہے۔ اب وہ بغاوت پھیلانے کے لئے اس بات سے انکار کرتا ہے کہ کوئی دینی حمایت انگریزوں کے ذریعہ سے ہمیں پہنچی ہے اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ دین کا حامی فقط سلطان روم ہے مگر یہ سرا سر خیانت ہے۔ اگر یہ گورنمنٹ ہمارے دین کی محافظ نہیں تو پھر کیونکہ شریروں کے حملوں سے ہم محفوظ ہیں۔ کیا یہ امر کسی پر پوشیدہ ہے کہ سکھوں کے وقت میں ہمارے دینی امور کی کیا حالت تھی اور کیسے ایک بانگ نماز کے سننے سے ہی مسلمانوں کے خون بہائے جاتے تھے۔ کسی مسلمان مولوی کی مجال نہ تھی کہ ایک ہندو کو مسلمان کر سکے۔ اب محمد حسین ہمیں جواب دے کہ اس وقت سلطان روم کہاں تھا اور اس نے ہماری اس مصیبت کے وقت ہماری کیا مدد کی تھی ؟