مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 455
مجموعه اشتہارات ۴۵۵ جلد دوم عربی نویسی کا اچھی طرح بخیہ ادھیڑ چکے ہیں ۔ مگر اس گروہ بے شکوہ نے شرم و حیا کو نصیب اعدا سمجھ کر ان دعاوی باطلہ و اغلیط عاطلہ کا دیانی کا اعادہ کر کے گڑے مردے اُکھاڑنے کو عمل میں لاکر لوگوں کو دھو کہ دیا ہے۔ ان میں ذرہ شرم ہوتی تو وہ اشاعۃ السنہ کے ان مقامات کو پڑھ کر ڈوب کر مر جاتے اور پھر عربی نویسی کا دعوی زبان پر نہ لاتے ۔ مگر یہاں شرم کہاں ۔ ان کا تو یہ مقولہ ہے کہ شرم چہ کنی است که پیش مردان بیاید “ 66 (۴) کادیانی کا مستجاب الدعوات ہونے کا جو ان شیخ چلی کے شاگردوں نے دعوی کر کے اس ۸۲۵ میں مولوی صاحب سے مقابلہ چاہا ہے اس کا جواب مولوی صاحب اشاعة السنه نمبر ا جلد ۱۴ میں ۱۸۹۱ء اور نمبر جلد ۶ ا بابت ۱۸۹۵ء کے صفحہ ۴۵ اوغیرہ میں دے چکے ہیں مگر ان حیا کے دشمنوں نے حیا سے قسم کھا کر ان ہی پچھلی باتوں کا اعادہ شروع کر دیا ہے۔ ہم کہاں تک جوابات کا اعادہ کرے جاویں۔“ (۵) مولوی سید ابو حسن صاحب تبتی نے جو امام کے روپیہ انعام کے بدلے آٹھ سو پچیس جوتے کا دیانی کے لئے تجویز کئے ہیں اس پر حضور اینجانب کا صاد ہے لیکن ساتھ ہی اس کے اس قدر رعایت ضروری ہے کہ اگر حضرت اقدس (اکذب) کا دیانی اس قدر جوتوں کے بذات شریف و نفس نفیس متحمل نہ ہوسکیں اور سر مبارک حضرت اکذب کا گنجہ ہو جاوے یا جوتوں کی مار سے آپ کو الہامی قبض لاحق ہو جاوے تو باقی ماندہ آپ کے نائبین جنہوں نے گمنام اشتہارات دیئے ہیں آپس میں اس طرح بانٹ لیں کہ لاہور والے مخلص گمنام پٹیالہ والوں کو اور لدھیانہ والے شملہ والوں کو اور پٹیالہ والے لدھیانہ والوں کو اور اسی طرح وہ ایک دوسرے کو بطور ہمدردی مدد دیں۔ ہم کو اس پر اصرار نہیں کہ وہ سب کے سب جوتے حضرت اقدس (اکذب) ہی کے سر پر پورے کئے جاویں ۔ یہ امر بحکم آیت لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا الَّا وُسْعَهَا ہم کو پسندیدہ نہیں اور عام ہمدردی انسانی اور اخلاق کے بھی مخالف ہے۔“ لے الراقم احقر العباد لهم ربانی ملا محمد بخش لاہور ۱۰ نومبر ۱۸۹۸ء محمد بخش قادری مینیجر اخبار جعفر زٹلی تاج الہند پریس لاہور تبلیغ رسالت جلدی صفحه ۱ ۵ تا ۶۰ ) لے ذرہ صبر کرو کہ خدا تعالیٰ جو دیکھ رہا ہے یہ سب ذلت جھوٹے کی کرے گا ۔ من المشتہر