مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 432
مجموعه اشتہارات ۴۳۲ جلد دوم ایسی بد زبانی کے کلمات سنیں جس سے ہمارے دلوں کو دکھ پہنچے تو ہم صبر کریں۔ اور کچھ شک نہیں کہ جلد تر حکام کو اس طرف متوجہ کرنا یہ بھی ایک بے صبری کی قسم ہے اس لئے عقل مند اور دور اندیش مسلمان ہرگز اس طریق کو پسند نہیں کرتے کہ گورنمنٹ عالیہ تک اس بات کو پہنچایا جائے ۔ ہمیں خدا تعالیٰ نے قرآن میں یہ بھی تعلیم دی ہے کہ دین اسلام میں اکراہ اور جبر نہیں۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ لے اور جیسا کہ فرماتا ہے کہ اَفَأَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ ہے۔ لیکن اس قسم کے حیلے اکراہ اور جبر میں داخل ہیں جس سے اسلام جیسا پاک اور معقول مذہب بدنام ہوتا ہے۔ غرض اس بارے میں میں اور میری جماعت اور تمام اہل علم اور صاحب تدبر مسلمانوں میں سے اس بات پر اتفاق رکھتے ہیں کہ کتاب اُمہات المومنین کی لغو گوئی کی یہ سزا نہیں ہے کہ ہم اپنی گورنمنٹ محسنہ کو دست اندازی کے لئے توجہ دلا دیں۔ گو خود دانا گورنمنٹ اپنے قوانین کے لحاظ سے جو چاہے کرے۔ مگر ہمارا صرف فرض ہونا چاہیے کہ ہم ایسے اعتراضات کا کہ جو درحقیقت نہایت نادانی یا دھوکہ دہی کی غرض سے کئے گئے ہیں۔ خوبی اور شایستگی کے ساتھ جواب دیں اور پبلک کو اپنی حقیت اور اخلاق کی روشنی دکھلائیں۔ اسی غرض کی بنا پر یہ میموریل روانہ کیا گیا ہے۔ اور تمام جماعت ہماری معزز مسلمانوں کی اسی پر متفق ہے۔ الراقم خاکسار میرزاغلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور ۴ ر ماه مئی ۱۸۹۸ء یہ اشتہار کے چار صفحوں پر ہے مطبع کا نام درج نہیں۔ محمد اسمعیل پر لیس مین کا نام اس پر لکھا ہے ) A (روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۳۱۵ تا ۳۱۹، تبلیغ رسالت جلدی صفحہ ۳۶ تا ۴۱) ا البقرة : ۲۵۷ يونس : ۱۰۰