مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 407 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 407

مجموعه اشتہارات ۴۰۷ جلد دوم مگر اس قانون کا اُن کی اخلاقی حالت پر نہایت ہی کم اثر پڑے گا۔ (۳) تیسرا امر جو قابل گذارش ہے یہ ہے کہ میں گورنمنٹ عالیہ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ فرقہ جدیدہ جو برٹش انڈیا کے اکثر مقامات میں پھیل گیا ہے جس کا میں پیشوا اور امام ہوں گورنمنٹ کے لئے ہرگز خطر ناک نہیں ہے اور اس کے اصول ایسے پاک اور صاف اور امن بخش اور صلح کاری کے ہیں کہ تمام اسلام کے موجودہ فرقوں میں اس کی نظیر گورنمنٹ کو نہیں ملے گی۔ جو ہدایتیں اس فرقہ کے لئے میں نے مرتب کی ہیں جن کو میں نے ہاتھ سے لکھ کر اور چھاپ کر ہر ایک مرید کو دیا ہے کہ ان کو اپنا دستور العمل رکھے۔ وہ ہدایتیں میرے اُس رسالہ میں مندرج ہیں جو ۱۲ جنوری ۱۸۸۹ء میں چھپ کر عام مُریدوں میں شائع ہوا ہے جس کا نام تکمیل تبلیغ مع شرائط بیعت لے ہے جس کی ایک کاپی اسی زمانہ میں گورنمنٹ میں بھی بھیجی گئی تھی۔ ان ہدایتوں کو پڑھ کر اور ایسا ہی دوسری ہدایتوں کو دیکھ کر جو وقتاً فوقتاً چھپ کر مریدوں میں شائع ہوتی ہیں گورنمنٹ کو معلوم ہوگا کہ کیسے امن بخش اصولوں کی اس جماعت کو تعلیم دی جاتی ہے اور کس طرح بار بار اُن کو تاکیدیں کی گئی ہیں کہ وہ گورنمنٹ برطانیہ کے سچے خیر خواہ اور مطیع رہیں اور تمام بنی نوع کے ساتھ بلا امتیاز مذہب وملت کے انصاف اور رحم اور ہمدردی سے پیش آئیں۔ یہ سچ ہے کہ میں کسی ایسے مہدی ہاشمی قرشی خونی کا قائل نہیں ہوں جو دوسرے مسلمانوں کے اعتقاد میں بنی فاطمہ میں سے ہوگا اور زمین کو کفار کے خون سے بھر دے گا میں ایسی حدیثوں کو صحیح نہیں سمجھتا اور محض ذخیرہ موضوعات جانتا ہوں ۔ ہاں میں اپنے نفس کے لئے اس مسیح موعود کا ادعا کرتا ہوں جو حضرت عیسی علیہ السلام کی طرح غربت کے ساتھ زندگی بسر کرے گا اور لے ان شرائط میں سے چند شرطوں کی یہاں نقل کی جاتی ہے۔ شرط دوم یہ کہ جھوٹ اور زنا اور بدنظری اور ہر ایک فسق و فجور اور ظلم اور خیانت اور فساد اور بغاوت کے طریقوں سے بچتار ۔ رہے گا اور نفسانی جوشوں کے وقت اُن کا مغلوب نہیں ہوگا۔ اگر چہ کیسا ہی جذبہ پیش آوے۔ شرط چہارم یہ کہ عام خلق اللہ کو عموماً اور مسلمانوں کو خصوصاً اپنے نفسانی جوشوں سے کسی نوع کی ناجائز تکلیف نہیں دے گا نہ زبان سے نہ ہاتھ سے نہ کسی اور طرح سے۔ شرط نہم یہ کہ عام خلق اللہ کی ہمدردی میں محض اللہ مشغول رہے گا اور جہاں تک بس چل سکتا ہے اپنی خدا داد طاقتوں اور نعمتوں سے بنی نوع کو فائدہ پہنچائے گا۔