مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 22
مجموعه اشتہارات ۲۲ جلد دوم ہمارا دل دکھاتے ہیں اور ایسی باتوں سے ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرتے ہیں اور گالیوں تک نوبت پہنچاتے ہیں جن کا ہماری معتبر کتابوں میں نام و نشان نہیں۔ اس سے زیادہ ہمارے دل دکھانے کا اور کیا موجب ہوگا کہ چند بے بنیاد افتراؤں کو پیش کر کے ہمارے اس سید و مولی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر زنا اور بدکاری کا الزام لگانا چاہتے ہیں جس کو ہم اپنی پوری تحقیق کی رو سے سید المعصومین اور ان تمام پاکوں کا سردار سمجھتے ہیں جو عورت کے پیٹ سے نکلے اور اس کو خاتم الانبیاء جانتے ہیں کیونکہ اس پر تمام نبوتیں اور تمام پاکیز گیاں اور تمام کمالات ختم ہو گئے ۔ اس صورت میں صرف یہی ظلم نہیں کہ ناحق اور بے وجہ ہمارا دل دکھایا جاتا ہے اور اس انصاف پسند گورنمنٹ کے ملک میں ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دی جاتی ہیں اور بڑے بڑے پیرا یوں میں ہمارے اس مقدس امذہب مذہب کی کی توہین توہین کی جاتی ہے۔ بلکہ یہ ظلم بھی ہوتا ہے کہ ایک حق اور راست راست امر کو محض یاوہ گوئی کے ذخیرہ سے مشتبہ اور کمزور کرنے کے لئے کوشش کی جاتی ہے اگر گورنمنٹ کے بعض اعلیٰ درجہ کے حکام دو تین روز اس بات پر بھی خرچ کریں کہ ہم میں سے کسی منتخب کے روبرو ایسے بیجا الزامات کی وجہ ثبوت ہمارے مذکورہ بالا مخالفوں سے دریافت فرماویں تو زیرک طبع حکام کو فی الفور معلوم ہو جائے گا کہ کس قدر یہ لوگ بے ثبوت بہتانوں سے سرکار انگریزی کی وفادار رعایا اہل اسلام پر ظلم کر رہے ہیں ۔ ہم نہایت ادب سے گورنمنٹ عالیہ کی جناب میں یہ عاجزانہ التماس کرتے ہیں کہ ہماری محسن گورنمنٹ ان احسانوں کو یاد کر کے جواب تک ہم پر کئے ہیں ایک یہ بھی ہماری جانوں اور آبروؤں اور ہمارے ٹوٹے ہوئے دلوں پر احسان کرے کہ اس مضمون کا ایک قانون پاس کر دیوے یا کوئی سرکلر جاری کرے کہ آئندہ جو مناظرات اور مجادلات اور مباحثات مذہبی امور میں ہوں ان کی نسبت ہر یک قوم مسلمانوں اور عیسائیوں اور آریوں وغیرہ میں سے دو امر کے ضرور پابندر ہیں ۔ (۱) اول یہ کہ ایسا اعتراض جو خود معترض کے ہی الہامی کتاب یا کتابوں پر جن کے