مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 349
مجموعه اشتہارات ۳۴۹ جلد دوم ہے۔ پس کسی کی عظمت اور جلال اور قدرت اس کو تعجب میں نہیں ڈالتی اور نہ اپنی طرف جھکا سکتی ہے۔ سواس کو دوسروں پر صرف رحم باقی رہ جاتا ہے خواہ بادشاہ ہوں یا شہنشاہ ہوں کیونکہ اس کو ان چیزوں کی طمع باقی نہیں رہتی جو ان کے ہاتھ میں ہیں ۔ جس نے اس حقیقی شہنشاہ کے دربار میں بار پایا جس کے ہاتھ میں ملکوت السموات والارض ہے۔ پھر فانی اور جھوٹی بادشاہی کی عظمت اس کے دل میں کیونکر بیٹھ سکے؟ میں جو اس مَلِيكِ مُقْتَدِرِ کو پہنچانتا ہوں تو اب میری روح اس کو چھوڑ کر کہاں اور کدھر جائے؟ یہ روح تو ہر وقت یہی جوش مار رہی ہے کہ اے شاہ ذوالجلال ابدی سلطنت کے مالک سب ملک اور ملکوت تیرے لئے ہی مسلّم ہے تیرے سوا سب عاجز بندے ہیں۔ بلکہ کچھ بھی نہیں ۔ (1) آن کس که بتو رسد شہاں را چه کند با فر تو فرخسرواں را چه گند (۲) چوں بندہ شناختت بدال عز وجلال بعد از تو جلال دیگران را چه گند (۳) دیوانه کنی هر دو جهانش بخشی دیوانہ تو ہر دو جہاں را چه گند الراقم میرزا غلام احمد از قادیان ۲۵ جون ۱۸۹۷ء V مطبوعہ ضیاء الاسلام پر لیس قادیان (یہ اشتہار ۳۸۴ کے ۱۲ صفحات پر ہے ) تبلیغ رسالت جلد ۶ صفحه ۱۳۳ تا ۱۴۴) ا ترجمہ۔ (۱) جس کی تجھ تک رسائی ہے وہ بادشاہوں کو کیا سمجھتا ہے اور تیری شان کے آگے وہ بادشاہوں کی کیا حقیقت سمجھتا ہے۔ (۲) جب بندہ نے تیرے عز و جلال کو پہچان لیا تو پھر تجھے چھوڑ کر وہ دوسروں کی شوکت کو کیا کرے۔(۳) اپنا دیوانہ بنا کر تو اسے دونوں جہان بخش دیتا ہے مگر تیرا دیوانہ دونوں جہانوں کو کیا کرے۔