مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 345 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 345

مجموعه اشتہارات ۳۴۵ جلد دوم لئے حرکت کی جہاں لکھا ہے کہ ایک بزرگ نے جب یہ اشتہار (یعنی اس عاجز کا اشتہار ) پڑھا تو بیسا ختہ ان کے منہ سے یہ شعر نکل گیا ۔ چوں خدا خواہد کہ پردہ کس درد میلش اندر طعنہ و پاکاں برد میں نے ہر چند اس روحی حرکت کو روکا اور دبایا اور بار بار کوشش کی کہ یہ بات میری روح میں سے نکل جائے مگر وہ نہ نکل سکی تب میں نے سمجھا کہ وہ خدا کی طرف سے ہے تب میں اس شخص کے بارے میں دعا کی جس کو بزرگ کے لفظ سے اخبار میں لکھا گیا ہے اور میں جانتا ہوں کہ وہ دعا قبول ہوگئی ۔ اور وہ دعا یہ ہے کہ یا الہی اگر تو جانتا ہے کہ میں کذاب ہوں اور میں تیری طرف سے نہیں ہوں اور جیسا کہ میری نسبت کہا گیا ہے ملعون اور مردود ہوں اور کا ذب ہوں اور تجھ سے میرا تعلق اور تیرا مجھ سے نہیں تو میں تیری جناب میں عاجزانہ عرض کرتا ہوں کہ مجھے ہلاک کر ڈال۔ اور اگر تو جانتا ہے کہ میں تیری طرف سے ہوں اور تیرا بھیجا ہوا ہوں اور مسیح موعود ہوں تو اس شخص کے پردے سے ہوں ہوا اورمسیح پھاڑ دے۔ جو بزرگ کے نام سے اس اخبار میں لکھا گیا ہے ۔لیکن اگر وہ اس عرصہ میں قادیان میں آکر مجمع عام میں تو بہ کرے تو اُسے معاف فرما کہ تو رحیم و کریم ہے۔ یہ دعا ہے کہ میں نے اس بزرگ کے حق میں کی مگر مجھے اس بات کا علم نہیں ہے کہ یہ بزرگ کون ہے اور کہاں رہتے ہیں اور کسی مذہب اور قوم کے ہیں ۔ جنہوں نے مجھے کذاب ٹھہرا کر میری پردہ دری کی پیشگوئی کی اور نہ مجھے جاننے کی کچھ ضرورت ہے۔ مگر اس شخص کے اس کلمہ سے میرے دل کو دکھ پہنچا اور ایک جوش پیدا ہوا تب میں نے دعا کر دی اور یکم جولائی ۱۸۹۷ء سے یکم جولائی ۱۸۹۸ ء تک اس کا فیصلہ کرنا خدا تعالیٰ سے مانگا۔ اس دعا میں شاید ایک یہ بھی حکمت ہوگی کہ چونکہ آج کل ایک فرقہ نیچر یہ مسلمانوں کی ۔ کا لے ترجمہ ۔ خدا تعالیٰ جب کسی کا پردہ چاک کرنا چاہتا ہے تو اس کی طبع میں پاک لوگوں پر طعنہ زنی کا میلان پیدا کر دیتا ہے۔