مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 20
مجموعه اشتہارات ۲۰ جلد دوم کا دل دکھایا اور بہتوں نے اپنی بدذاتی اور مادری بد گوہری سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بہتان لگائے یہاں تک کہ کمال خباثت اور اُس پلیدی سے جو ان کے اصل میں تھی اس سید المعصومین پر سراسر دروغ گوئی کی راہ سے زنا کی تہمت لگائی ۔ اگر غیرت مند مسلمانوں کو اپنی محسن گورنمنٹ کا پاس نہ ہوتا تو ایسے شریروں کو جن کے افترا میں یہاں تک نوبت پہنچی وہ جواب دیتے جو ان کی بد اصلی کے مناسب حال ہوتا ۔ مگر شریف انسانوں کو گورنمنٹ کی پاسداریاں ہر وقت روکتی ہیں اور وہ طمانچہ جو ایک گال کے بعد دوسری گال پر عیسائیوں کو کھانا چاہیے تھا ہم لوگ گورنمنٹ کی اطاعت میں محو ہو کر پادریوں اور ان کے ہاتھ کے اکسائے ہوئے آریوں سے کھا رہے ہیں۔ یہ سب نبرد باریاں ہم اپنی محسن گورنمنٹ کے لحاظ سے کرتے ہیں اور کریں گے کیونکہ ان احسانات کا ہم پر شکر کرنا واجب ہے جو سکھوں کے زوال کے بعد ہی خدا تعالیٰ کے فضل نے اس مہربان گورنمنٹ کے ہاتھ سے ہمارے نصیب کئے اور نہایت بدذاتی ہو گی اگر ایک لحظہ کے لئے بھی کوئی ہم میں سے ان نعمتوں کو فراموش کر دے جو اس گورنمنٹ کے ذریعہ سے مسلمانوں کو ملی ہیں بلا شبہ ہمارا جان و مال گورنمنٹ انگریزی کی خیر خواہی میں فدا ہے اور ہو گا۔ اور ہم غائبانہ اس کے اقبال کے لئے دعا گو ہیں اور اگر چہ گورنمنٹ کی عنایات سے ہر یک کو اشاعت مذہب کے لئے آزادی ملی ہے لیکن اگر سوچ کر دیکھا جائے تو اس آزادی کا پورا پورا فائدہ محض مسلمان اٹھا سکتے ہیں اور اگر عمداً آپ نہ اٹھاویں تو ان کی بد قسمتی ہے وجہ یہ ہے کہ گورنمنٹ نے اپنی عام مہربانیوں کی وجہ سے مذہبی آزادی کا ہر یک قوم کو عام فائدہ دیا اور کسی کو اپنے اصولوں کی اشاعت سے نہیں روکا لیکن جن مذہبوں میں سچائی کی قوت اور طاقت نہیں اور ان کے اصول صرف انسانی بناوٹ ہیں اور ایسے قابل مضحکہ ہیں جو ایک محقق کو ان کی بیہودہ کتھا اور کہانیاں سن کر بے اختیار ہنسی آ جاتی ہے کیونکر ان مذہبوں کے واعظ اپنی ایسی باتوں کو وعظ کے وقت دلوں میں جما سکتے ہیں اور کیونکر ایک پادری مسیح کو خدا کہتے ہوئے ایک دانشمند شخص کو اس حقیقی خدا پر ایمان رکھنے سے برگشتہ کر سکتا ہے جس کی ذات مرنے اور مصیبتوں کے اٹھانے اور دشمنوں کے ہاتھ میں گرفتار ہونے اور پھر مصلوب ہو جانے سے پاک ہے اور جس کا جلالی نام قانون قدرت کے ہر یک صفحہ میں چمکتا ہوا