مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 246
مجموعه اشتہارات ۲۴۶ ہوں کہ بالفعل اسی قدر کافی ہے۔ المشتهر خاکسار میرزاغلام احمد قادیانی (۱۵ مارچ ۱۸۹۷ء) جلد دوم یہ اشتہار ۳۳ کے چار صفحہ پر ہے ) (مطبوعہ ضیاء الاسلام پر لیس قادیان ) تبلیغ رسالت جلد ۶ صفحه ۴۲ تا ۶۴) نوٹ از مرتب ہذا ۔ اس اشتہار کے متعلق تین نوٹ بھی ہیں (مرتب) از ہذا۔ اس کے وٹ نمبر ا ۔ پنڈت لیکھرام کا اس طرز سے مارا جانا آریہ صاحبوں کو ایک سبق دیتا ہے اور وہ یہ کہ آئندہ کسی نو مسلم کے شدھ کرنے کے لئے کوشش نہ کریں۔ اگر کوئی اسلام میں داخل ہوتا ہے تو اس کو ہونے دیں۔ آخر شدھ ہونے والے کو دیکھ لیا کہ اس کا نتیجہ کیا ہوا۔ اور دوسرے اس واقعہ سے یہ بھی سبق ملتا ہے کہ آئندہ یہ خواہش نہ کریں کہ کوئی دوسرا لیکھر ام یعنی بد زبانیوں میں اس کا ثانی تلاش کرنا چاہیے ۔ لیکن اگر فی الواقعہ وہ بات صحیح ہے جو پیسہ اخبار اور سفیر میں لکھی گئی ہے، یعنی یہ کہ اس کے قتل کا سبب صرف بدکاری ہے اور یہ کام کسی غیرت مند لڑکی کے باپ یا خاوند کا ہے جیسا کہ بقول پیسہ اخبار کثرت رائے اسی طرف ہے۔ تو آئندہ نیک چلن واعظ تلاش کرنا چاہیے۔ تعجب کی بات ہے کہ جس حالت میں بموجب بیان پیسہ اخبار کے زیادہ مشہور روایت یہی ہے کہ واردات قتل کا موجب کوئی ناجائز تعلق ہے تو کیوں اس طرف تحقیقات کے لئے توجہ نہیں کی جاتی اور کیوں ایسے ہندوؤں کے اظہار نہیں لئے جاتے جن کے مونہہ سے یہ باتیں نکلیں ۔ اور کیا بعید ہے کہ وہی بات ہو کہ ڈھنڈورا شہر میں لڑکا بغل میں ۔ منہ نوٹ نمبر ۲۔ بعض صاح بعض صاحب عیسائیوں میں سے اعتراض کرتے ہیں کہ اگر چہ یکھرام کی نسبت پیشگوئی پوری ہو گئی مگر ہندوؤں نے اس کو مرنے کے بعد ذلت کی نظر سے نہیں دیکھا۔ ایسا عذر ایک عیسائی کے منہ سے نکلنا نہایت افسوس کی بات ہے۔ بھلا منصف بتلاویں کہ جب ہم نے پیشگوئی کے پورا ہونے