مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 230
مجموعه اشتہارات ۲۳۰ جلد دوم کے رعب کی وجہ سے ۔ وہ ہمیشہ مباحثات کرتے تھے مگر پیشگوئی کے بعد ایسے چپ ہوئے ، چپ ہونے کی حالت میں ہی گزر گئے ۔ پس پیشگوئی تین طور سے پوری ہوئی ۔ (۱) اول اپنی شرط کی رو سے کہ شرط پر عمل کرنے سے اس کا فائدہ آتھم کو دیا گیا۔ (۲) دوم اخفاء و شہادت کے بعد جو وعدہ موت تھا اس وعدہ کی رُو سے۔ (۳) براہین احمدیہ کے اس الہام کی رو سے جو اس واقعہ سے بارہ برس پہلے ہو چکا تھا ۔ اب سوچو کہ اس سے بڑھ کر اگر کسی پیشگوئی میں صفائی ہو گی تو اور کیا ہو گی۔ اگر کوئی سچائی کو چھوڑ کر باتیں بناوے تو ہم اُس کا مونہہ بند نہیں کر سکتے ۔ لیکن آتھم کی نسبت جو الہام کے الفاظ ہیں وہ ایسے صاف ہیں کہ ایک حق کے طالب کو بجز ان کے ماننے کے کچھ بن نہیں پڑتا۔ اور براہین احمدیہ کا الہام جو آتھم صاحب کی نسبت ہے جو بارہ برس پہلے اس پیشگوئی سے تقریباً تمام اسلامی دنیا میں شائع ہو چکا ہے اس پر غور کرنے والے تو سجدہ میں گریں گے کہ کیسا عالم الغیب خدا ہے جس نے پہلے سے ان تمام آئیندہ واقعات اور جھگڑوں کی خبر دے دی ۔ چونکہ اکثر اہل دنیا کو آجکل اس برتر ہستی پر ایمان نہیں ہے اس لئے اُن کے خیالات بہ نسبت اس کے کہ نیک ظنی کی طرف جائیں بدظنی کی طرف زیادہ جاتے ہیں ۔ یہ بالکل غلطی ہے کہ گورنمنٹ نے لیکھرام کے مقدمہ میں سستی کی ہے۔ اور آتھم کے مقدمہ میں اگر وہ قتل ہو جاتا تو سستی نہ کرتی۔ ہم کہتے ہیں کہ بیشک یہ گورنمنٹ کا فرض ہے کہ ہندو اور مسلمانوں کو دونوں آنکھوں کی طرح برابر دیکھے ۔ کسی کی رعایت نہ کرے۔ جیسا کہ فی الواقعہ یہ عادل گورنمنٹ ایسا ہی کر رہی ہے۔ لیکن میں پوچھتا ہوں کہ کیا کوئی گورنمنٹ خدا سے بھی لڑ سکتی ہے۔ بیشک گورنمنٹ کا فرض ہے کہ کسی نابکار خونی کو پکڑے اس کو پھانسی دے اور بدتر سے بدتر سزا کے ساتھ اس کو تنبیہ کرے تا دوسرے سرے عبرت پکڑیں اور ملک میں امن قائم رہے ۔ اگر آتھم مل قتل ہو ہو جاتا جا تا تو تو بیشک و وہ شخص پھانسی ملتا جو آتھم کا قاتل ہوتا۔ اسی طرح جب ثابت ہوگا کہ لیکھرام کا فلاں شخص قاتل ہے اور وہ گرفتار کا ہوگا تو ایسا ہی وہ بھی پھانسی ملے گا۔ گورنمنٹ کا اس میں کیا قصور ہے اور کون سی سستی ؟ کس قاتل کو آریہ صاحب کسی ثبوت کے ساتھ گرفتار کرانا چاہتے ہیں جس کے پکڑنے میں گورنمنٹ متامل ہے۔ لیکن گورنمنٹ خدا کی پیشگوئیوں میں دخل نہیں دے سکتی ۔ جس قدر گورنمنٹ اس کی طرف توجہ کرے گی