مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 225 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 225

مجموعه اشتہارات ۲۲۵ جلد دوم بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ سید احمد خان صاحب کے ہی ، ایس ، آئی سید صاحب اپنے رسالہ الدعاء والاستجابت میں اس بات سے انکاری ہیں کہ دعا میں جو کچھ مانگا جائے وہ دیا جائے ۔ اگر سید صاحب کی تحریر کا یہ مطلب ہوتا کہ ہر یک دعاء کا قبول ہونا واجب نہیں بلکہ جس دعاء کو خدا تعالیٰ قبول فرمانا اپنے مصالح کی رو سے پسند فرماتا ہے وہ دعاء قبول ہو جاتی ہے۔ ورنہ نہیں ۔ تو یہ قول بالکل سچ ہوتا ۔ مگر سرے سے قبولیت دعا سے انکار کرنا تو خلاف تجارب صحیحہ و عقل و نقل ہے۔ ہاں دعاؤں کی قبولیت کے لئے اس روحانی حالت کی ضرورت ہے۔ جس میں انسان نفسانی جذبات اور میل غیر اللہ کا چولہ اتار کر اور بالکل روح ہو کر خدا تعالیٰ سے جاملتا ہے۔ ایسا شخص مظہر العجائب ہوتا ہے اور اس کی محبت کی موجیں خدا کی محبت کی موجوں سے یوں ایک ہو جاتی ہیں جیسا که دو شفاف پانی دو متقارب چشموں سے جوش مار کر آپس میں مل کر بہنا شروع کر دیتے ہیں۔ ایسا آدمی گویا خدا کی شکل دیکھنے کے لئے ایک آئینہ ہوتا ہے اور غیب الغیب خدا کا اس کے عجائب کاموں سے پتہ ملتا ہے۔ اس کی دعائیں اس کثرت سے منظور ہوتی ہیں کہ گویا دنیا کو پوشیدہ خدا دکھا دیتا ہے۔ سوسید صاحب کی یہ غلطی ہے کہ دعا قبول نہیں ہوتی ۔ کاش اگر وہ چالیس دن تک بھی میر ۔ ما میرے پاس رہ جاتے تو نئے اور پاک معلومات پالیتے ۔ مگر اب شاید ہماری اور ان کی عالم آخرت میں ہی ملاقات ہوگی ۔ افسوس کہ ایک نظر دیکھنا بھی اتفاق نہیں ہوا۔ سید صاحب اس اشتہار کو غور سے پڑھیں کہ اب